سورة الأحزاب - آیت 28

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اے نبی! اپنی بیویوں سے فرما دیں، اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے کر اچھے طریقے سے رخصت کرتا ہوں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت نمبر : 29۔28 رسول اللہ کی ازواج مطہرات (رض) نے جمع ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ ایسے مطالبات کیے جن کو ہر وقت پورا نہیں کیا جاسکتا تھا مگر وہ متفق ہو کر اپنا مطالبہ کرتی ہی رہیں۔ یہ چیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بہت شاق گزری۔ حالت یہاں تک پہنچی کہ آپ کو ان کے ساتھ ایک ماہ کے لیے ایلا (زوجہ کے قریب نہ جانے کا عہد) کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معاملے کو آسان اور آپ کی زواج مطہرات کے درجات کو بلند کرنا چاہتا تھا اور آپ کی ازواج مطہرات سے ہر اس بات کو دور کرنا چاہتا تھا جو ان کے اجر کو کم کرے‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ اپنی ازواج کو (اپنے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دے دیں۔ فرمایا : (یایھا النبی قل لازواجک ان کنتن تردن الحیوۃ الدنیا و زینتھا) ” اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو۔“ یعنی اگر دنیا کے سوا تمہارا کوئی مطلب نہیں اور تم دنیا کی زندگی پر راضی اور اس کے فقدان پر ناراض ہو اگر تمہارا یہی حال ہے تو مجھے تمہاری کوئی ضرورت نہیں۔ (فتعالین امتعکن) ” تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دوں۔“ یعنی میرے پاس جو بھی سروسامان ہے‘ وہ تمہیں عطا کردوں (اسرحکن) اور تمہیں الگ کردوں (سراحا جمیلا) یعنی کسی ناراضی اور سب و شتم کے بغیر‘ بلکہ خوش دلی اور انشراح صدر کے ساتھ‘ اس سے قبل کہ حالات نامناسب سطح تک پہنچ جائیں تمہیں آزاد کردوں۔ (وان کنتن تردن اللہ و رسولہ والدار الاخرۃ) ” اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کی طلب گار ہو۔“ یعنی اگر آخرت کا گھر تمہارا مطلوب و مقصود ہے اور جب تمہیں اللہ‘ اس کا رسول اور آخرت حاصل ہوجائیں تو تمہیں دنیا کی کشادگی اور تنگی‘ اس کی آسانی اور سختی کی پروا نہ ہو اور تم اسی پر قناعت کرو جو تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے میسر ہے اور آپ سے ایسا مطالبہ نہ کرو جو آپ پر شاق گزرے (فان اللہ اعد للمحسنت منکن اجرا عظیما) ” تو (جان لو) اللہ نے تم میں سے نیکوکار عورتوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کے وصف احسان پر اجر مرتب کیا ہے کیونکہ اس اجر کا سبب اور موجب یہ نہیں کہ وہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں ہیں بلکہ اس کا موجب یہی وصف ہے۔ احسان کا وصف معدوم ہوتے ہوئے مجرد رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں ہونا کافی نہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو اختیار دے دیا۔ تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے اللہ‘ اس کے رسول اور آخرت کو اختیار کرلیا‘ ان میں سے ایک بھی پیچھے نہ رہی۔ اس تخییر سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں۔ (١) اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اہتمام کرنا اور اس پر غیرت کا اظہار کرنا‘ آپ کا ایسے حال میں ہونا کہ آپ کی ازواج مطہرات کے بہت سے دنیاوی مطالبات کا آپ پر شاق گزرنا۔ (٢) اس تخییر کے ذریعے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنی ازواج مطہرات کے حقوق کے بوجھ سے سلامت ہونا‘ اپنے آپ میں آزاد ہونا‘ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چاہیں تو عطا کریں اور اگر چاہیں تو محروم رکھیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ما کان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ) (الاحزاب : ٣٣/٨٣) ” نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی حرج نہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کردیا۔ “ (٣) اللہ تعالیٰ کے رسول کا ان امور سے منزہ ہونا جو اگر ازواج مطہرات میں ہوتے‘ مثلاً اللہ اور اس کے رسول پر دنیا کو ترجیح دینا۔۔۔ تو آپ ان کے قریب نہ جاتے۔ (٤) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات کا گناہ اور کسی ایسے امر سے تعرض سے سلامت ہونا جو اللہ اور اس کے رسول کی ناراضی کا موجب ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس تخییر کے ذریعے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کی ناراضی کو ختم کردیا‘ جو آپ کی ناراضی کا موجب تھی‘ آپ کی ناراضی اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی عذاب کی موجب ہے۔ (٥) ان آیات کریمہ سے‘ ازواج مطہرات کی رفعت‘ ان کے درجات کی بلندی اور ان کی عالی ہمتی کا اظہار ہوتا ہے کہ انہوں نے دنیا کے چند ٹکڑوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ‘ اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو اپنا مطلوب و مقصود اور اپنی مراد بنایا۔ (٦) ازواج مطہرات کا اس اختیار کے ذریعے سے ایک ایسے معاملے کو اختیار کرنے کے لیے تیار ہونا جو جنت کے درجات تک پہنچاتا ہے‘ نیز اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ تمام ازواج مطہرات دنیا و آخرت میں آپ کی بیویاں ہیں۔ (٧) اس آیت کریمہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور آپ کی ازواج مطہرات کے درمیان کامل مناسبت کا اظہار ہوتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کامل ترین ہستی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ آپ کی ازواج مطہرات بھی کامل اور پاک عورتیں ہوں۔ (والطیبت للطیبین والطیبون للطیبت) (النور : ٤٣/٦٢) ” اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں۔ “ (٨) یہ تخییر قناعت کی داعی اور اس کی موجب ہے۔ جس سے اطمینان قلب اور انشراح صدر حاصل ہوتا ہے‘ لالچ اور عدم رضا زائل ہوجاتے ہیں جو قلب کے لیے قلق‘ اضطراب اور غم کا باعث ہوتے ہیں۔ (٩) ازواج مطہرات کا آپ کو اختیار کرنا‘ ان کے اجر میں کئی گنا اضافے کا سبب ہے‘ نیز یہ کہ وہ ایک ایسے مرتبے پر فائز ہیں جس میں دنیا کی کوئی عورت شریک نہیں۔