سورة السجدة - آیت 12

وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کاش تم اس وقت دیکھو جب مجرم سر جھکائے اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے اچھی طرح دیکھ لیا اور سن لیا، اب ہمیں واپس بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں، کیونکہ ہمیں یقین ہوگیا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت نمبر : 14۔12 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز ان کے اپنی طرف لوٹنے کے بارے میں ذکر کرنے کے بعد‘ اپنے حضور ان کی حاضری کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ولو تری اذالمجرمون) ” اور اگر آپ دیکھیں‘ جب کہ گناہ گار“ جنہوں نے بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کیا (ناکسوا رءوسھم عند ربھم) خشوع و خضوع اور انکساری کے ساتھ سرنگوں ہوکر‘ اپنے جرائم کا اقرار کرتے ہوئے‘ واپس لوٹائے جانے کی درخواست کرکے عرض کریں گے : (ربنآ ابصرنا وسمعنا) ” اے ہمارے رب ! ہمنے دیکھ لیا اور سن لیا۔“ یعنی تمام معاملہ ہمارے سامنے واضح ہوگیا ہم نے اسے عیاں طور پر دیکھ لیا اور ہمارے لیے عین الیقین بن گیا۔ (فارجعنا نعمل صالحاً انا موقنون) ” ہم کو (دنیا میں) واپس بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں بلاشبہ ہم یقین کرنے والے ہیں۔“ یعنی جن حقائق کو ہم جھٹلایا کرتے تھے اب ہمیں ان کا یقین آگیا ہے‘ تو آپ بہت برا معاملہ‘ ہولناک حالات‘ خائب و خاسر لوگ اور نامقبول دعائیں دیکھیں گے‘ کیونکہ مہلت کا وقت تو گزر چکا۔ اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر ہے کہ وہ ان کے اور کفر و معاصی کے درمیان سے نکل گیا۔ بنا بریں فرمایا : (ولو شئنا لاتینا کل نفس ھدھا) ” اور اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے۔“ یعنی ہم تمام لوگوں کو ہدایت سے نواز کر ہدایت پر جمع کردیتے۔ ہماری مشیئت ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے مگر ہماری حکمت یہ نہیں چاہتی کہ تمام لوگ ہدایت پر جمع ہوں‘ اسی لیے فرمایا : (ولکن حق القول منی) ” لیکن میری یہ بات بالکل حق ہوچکی ہے۔“ یعنی میرا حکم واجب ہوگیا اور اس طرح ثابت ہوگیا کہ اس میں تغیر کا کوئی گزر نہیں۔ (لاملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین) ” کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سے بھردوں گا۔“ یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا جس سے کوئی مفر نہیں۔ اس کے اسباب‘ یعنی کفر و معاصی ضرور متحقق ہوں گے۔ (فذوقوا بما نسیتم لقآء یومکم ھذا) ” پس چکھو تم (عذاب) اس دن کی ملاقات کو بھول جانے کی وجہ سے۔“ یعنی ان مجرموں سے کہا جائے گا‘ جن پر ذلت طاری ہوچکی ہوگی اور دنیا کی طرف لوٹائے جانے کی درخواست کر رہے ہوں گے تاکہ اپنے اعمال کی تلافی کرسکیں واپس لوٹنے کا وقت چلا گیا‘ اب عذاب کے سوا کچھ باقی نہیں‘ لہٰذا اب تم دردناک عذاب کا مزا چکھو‘ اس پاداش میں کہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو فراموش کردیا تھا۔ نسیان کی یہ قسم نسیان ترک ہے‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ سے منہ پھیرا اور اس کی خاطر عمل کو ترک کردیا گویا کہ تم سمجھتے تھے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے نہ اس سے ملاقات کرنی ہے۔ (انا نسینکم) ” بے شک ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا۔“ یعنی ہم نے تمہیں عذاب میں چھوڑ دیا۔ یہ جزا تمہارے عمل کی جنس میں سے ہے۔ جس طرح تم نے بھلائے رکھا اس طرح تمہیں بھی بھلا دیا گیا۔ (وذوقوا عذاب الخلد) کبھی نہ ختم ہونے والے عذاب کا مزا چکھو کیونکہ جب عذاب کی مدت اور انتہا مقرر ہو تو اس میں کسی حد تک تخفیف کا پہلو پایا جاتا ہے‘ رہا جہنم کا عذاب۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس عذاب سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔۔۔ تو اس عذاب میں کوئی راحت ہوگی نہ ان پر یہ عذاب کبھی منقطع ہوگا۔ (بما کنتم تعملون) ” تمہارے اعمال کی وجہ سے۔“ یعنی کفر‘ فسق اور معاصی کی پاداش میں۔