سورة لقمان - آیت 6

وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور لوگوں میں سے ایسا بھی ہے جو بے ہودہ کلام خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکے اور جہالت کے ساتھ گمراہ کرے اور اس دعوت حق کو مذاق بنائے۔ ایسے لوگوں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت نمبر : 6۔9 (ومن الناس من) ” اور لوگوں میں سے جو“ اللہ تعالیٰ کی تائید سے محروم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے (یشتری) ” خریدتا ہے“ یعنی جو اختیار کرتا ہے اور لوگوں کو اس میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے (لھو الحدیث) ” لغو باتیں“ یعنی دلوں کو غافل کرنے اور ان کو جلیل القدر مقاصد سے روکنے والے قصے کہانیاں۔ اس آیت کریمہ میں ہر محرم کلام‘ ہر قسم کی لغویات‘ ہر قسم کے باطل ہذیانی اقوال جو کفر و فسوق اور عصیان کی ترغیب دیتے ہیں‘ ان لوگوں کے نظریات جو حق کو ٹھکراتے ہیں اور باطل دلائل کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جھگڑتے ہیں‘ غیبت‘ چغلی‘ جھوٹ‘ سب و شتم‘ شیطانی گانا بجانا اور غفلت میں مبتلا کرنے والے قصے کہانیاں‘ جن کا دین و دینا میں کوئی فائدہ نہیں‘ داخل ہیں۔ لوگوں کی یہ صنف ہدایت کی باتوں کو چھوڑ کر کھیل تماشوں پر مشتمل قصے کہانیاں خریدتی ہے۔ (لیضل) تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے (عن سبیل اللہ بغیر علم) ” بغیر علم کے اللہ کی راہ سے“ یعنی اپنے فعل میں خؤد گمراہی کا راستہ اختیار کرکے دوسروں کو گمراہ کرتا ہے۔ اس کا گمراہ کرنے کا عمل خود اس کی اپنی گمراہی سے جنم لیتا ہے۔ اس کا اس لہو الحدیث سے گمراہ کرنے سے مراد کا فائدہ مند بات‘ عمل نافع‘ حق مبین اور صراط مستقیم سے روکنا ہے اور یہ سب کچھ اس وقت تک اس کے لیے تکمیل نہیں پاتا جب تک کہ وہ ہدایت اور حق میں (جسے اللہ تعالیٰ کی آیات لے کر آئی ہیں) جرح و قدح نہیں کرتا اور اللہ کی آیات کا مذاق نہیں اڑاتا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور ان کو لانے والے کا تمسخر اڑاتا ہے۔ جب ایسے شخص میں باطل کی مدح‘ اس کی ترغیب‘ حق میں جرح و قدح‘ حق اور اہل حق کے ساتھ استہزاء و تمسخر اکٹھے ہوجاتے ہیں تو وہ بے علم آدمی کو گمراہ کرتا ہے اور اسے ایسی بات بیان کرکے دھوکا دیتا ہے‘ جس میں گمراہ شخص امتیاز کرسکتا ہے نہ اس کی حقیقت معلوم کرسکتا ہے (اولئک لھم عذاب مھین) ” ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے“ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے‘ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ استہزا کیا اور واضح حق کی تکذیب کی‘ اس لیے فرمایا : (واذا تتلی علیہ ایتنا) ” جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں“ تاکہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی اطاعت کرے (ولی مستکبراً) تو وہ اس طرح پیٹھ پھیر جاتا ہے جیسے ان آیات سے تکبر کرنے اور ان کو ٹھکرانے والا پیٹھ پھیرتا ہے۔ یہ آیات اس کے دل میں داخل ہوتی ہیں نہ اس پر کچھ اثر کرتی ہیں بلکہ وہ ان کو پیٹھ کرکے چل دیتا ہے (کان لم یسمعھا) ” جیسے اس نے ان کو سنا ہی نہ ہو“ بلکہ (کان فی اذنیہ وقرا) ” گویا اس کے کانوں میں گرانی ہو“ اور آواز اس کے کانوں تک پہنچ ہی نہ سکتی ہو‘ لہٰذا اس کے لیے ہدایت کی کوئی راہ نہیں۔ (فبشرہ) ” پس اس کو بشارت دے دیجئے۔“ یعنی اسے ایسی بشارت دیں جو اس کے قلب کو حزن و غم سے لبریز کردے اور اس کے چہرے پر بدحالی‘ اندھیرا اور گرد و غبار چھا جائیں۔ (بعذاب الیم) ” دردناک عذاب کی“ جو قلب و بدن کے لیے بہت دردناک ہے جس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے نہ اس کو جانا جاسکتا ہے۔ یہ تو تھی اہل شر کی بشارت اور کتنی بری تھی یہ بشارت۔ رہی اہل خیر کی بشارت تو اس کے بارے میں فرمایا : (ان الذین امنوا وعملوا الصلحت) ” بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے۔“ یعنی جنہوں نے عبادت باطن کو ایمان کے ساتھ اور عبادت ظاہر کو اسلام اور عمل صالح کے ساتھ جمع کیا (لھم جنت النعیم) ” ان کے لیے نعمت کے باغ ہیں۔“ انہوں نے جو نیک اعمال پیش کیے ان پر خوش خبری اور جو نیک اعمال پیچھے چھوڑے ان پر مہمان نوازی کے طور پر۔ (خلدین فیھا) وہ ان نعمتوں بھری جنتوں میں‘ جو جسد و روح کے لیے نعمت ہیں‘ ہمیشہ رہیں گے۔ (وعداللہ حقا) ” اللہ کا وعدہ سچا ہے۔“ جس کی خلاف ورزی اور جس میں تغیر و تبدیل ممکن نہیں (وھو العزیز الحکیم) وہ کامل غلبے اور کامل حکمت کا مالک ہے یہ اس کا غلبہ اور حکتم ہے کہ اس نے جسے توفیق سے نوازنا چاہا نواز دیا‘ جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہونا چاہا الگ ہوگیا اور یہ سب کچھ ان کے بارے میں اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔