سورة لقمان - آیت 1

لم

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

الف، لام، میم

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

سورۃ لقمان آیت نمبر : 1۔5 اللہ تعالیٰ ان (ایت الکتب الحکیم) ” حکمت والی کتاب کی آیات“ کی تعظیم کے لیے ان کی طرف‘ اشارہ کرتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی محکم آیات ہیں جو ایک حکمت والی اور باخبر ہستی سے صادر ہوئی ہیں۔ ان آیات کے محکم ہونے سے مندرجہ ذیل امور مراد ہیں : (1) یہ آیات نہایت واضح، جلیل ترین اور فصیح ترین الفاظ میں آئی ہیں جو نہایت جلیل القدر اور بہترین معانی پر دلالت کرتے ہیں۔ (2) یہ آیات تغیر و تبدل‘ کمی بیشی اور تحریف سے محفوظ ہیں۔ (3) ان آیات میں گزشتہ زمانے اور آنے والے زمانے کے واقعات اور امور غیبیہ کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ وہ واقعات کے مطابق اور واقعات ان کے مطابق ہیں۔ کتب الٰہیہ میں سے کسی کتاب اور گزشتہ انبیاء میں سے کسی نبی نے ان اخبار کی مخالفت نہیں کی۔ اب تک کوئی علمی‘ حسی یا عقلی تحقیق ان امور کے متناقض نہیں‘ جن پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں۔ (4) ان آیات نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے وہ خالص یا راجح مصلحت پر مبنی ہوتی ہے اور جن امور سے روکا ہے وہ واضح یا راجح مفاسد پر مبنی ہوتے ہیں۔ بہت سے معاملات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی حکمت اور ان کے فوائد کا بھی ذکر کیا ہے اسی طرح کسی چیز سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ضرر اور مفاسد سے آگاہ کیا ہے۔ (5) قرآن کریم کی آیات میں ترغیب و ترہیب اور مواعظ بلیغہ اس انداز میں جمع ہیں کہ نیک نفس لوگ‘ اس کے ذریعے سے اعتدال اختیار کرتے ہیں‘ اس کو اپنا فیصل بناتے ہیں اور نہایت جزم و احتیاط کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ (6) آپ دیکھیں گے کہ اس کی آیات‘ اس کے قصص اور احکامات وغیرہ میں تکرار پایا جاتا ہے‘ مگر ان کے مضامین میں اتفاق ہے اور ان میں کوئی تناقض اور کوئی اختلاف نہیں۔ صاحب بصیرت جتنا زیادہ اس کے اندر تدبر اور غور و فکر کرتا ہے اس کی آیات و احکام میں توافق و تطابق کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے‘ اس کو یقین ہوجاتا ہے‘ جس میں شک و ریب کا کوئی شائبہ نہیں‘ کہ یہ قرآن حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے ہے۔ وہ حکمت سے لبریز ہے‘ وہ تمام اخلاق کریمہ کی طرف دعوت دیتا ہے اور برے اخلاق سے روکتا ہے‘ مگر اکثر لوگ اس کی رہنمائی سے محروم ہیں اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے سے روگردانی کرتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ روگردانی نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق سے سرفراز کرکے روگردانی سے بچایا۔ وہ اپنے رب کی عبادت میں احسان سے کام لیتے ہیں اور اس کے بندوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔ پس یہ قرآن انہی کے لیے (ھدی) ” ہدایت ہے“ راہ راست کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے اور جہنم کے راستوں سے انہیں بچاتا ہے (ورحمۃ) اور محسنین کے لیے رحمت ہے۔ اس کے ذریعے سے انہیں دنیا و آخرت کی سعادت‘ خیر کثیر‘ ثواب جزیل اور فرحت حاصل ہوتی ہے اور گمراہی و بدبختی ان سے دور ہوجاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان ” محسنین“ کا وصف بیان فرمایا کہ وہ علم کامل یعنی یقین محکم رکھتے ہیں جو عمل اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف کا موجب ہے اس لیے وہ اس کی نافرمانیوں کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عمل سے موصوف کیا ہے اور عمل کے ضمن میں دو بہترین اعمال کا ذکر فرمایا : وہ نماز کی پابندی کرتے ہیں‘ جو اخلاص‘ اللہ تعالیٰ سے مناجات‘ قلب و زبان اور جوارح کے تعبد عام کو شامل ہے اور باقی اعمال میں معاون ہے‘ نیز زکوٰۃ کا بھی تذکرہ فرمایا کہ اسے ادا کرنے والا تمام صفات رذیلہ سے پاک ہوجاتا ہے۔ وہ زکوٰۃ کے ذریعے سے اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچاتا ہے‘ اس کی ضرورت پوری کرتا ہے۔ زکوٰۃ سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کی محبت کو مال کی محبت پر ترجیح دیتا ہے۔ وہ اپنے محبوب مال کو اس کی خاطر خرچ کرتا ہے جو اسے اپنے مال سے کہیں زیادہ محبوب ہے۔۔۔ اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا۔ (اولئک) یہ نیکوکار لوگ جو علم کامل اور عمل کے جامع ہیں (علی ھدی) ” ہدایت پر ہیں“ جو بہت عظیم ہے جیسا کہ ” ہدایت“ کو نکرہ استعمال کرنے سے مستفاد ہوتا ہے۔ (من ربھم) ” اپنے رب کی طرف سے۔“ جو اپنی نعمتوں کے ذریعے سے ان پر اپنی ربوبیت کا فیضان کرتا اور ان سے تکلیف دہ امور کو دور کرتا رہتا ہے۔ یہ ہدایت‘ جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا ہے‘ اس خاص ربوبیت سے ہے جو اس نے اپنے اولیا پر کی ہے اور یہ ربوبیت کی بہترین قسم ہے۔ (والئک ھم المفلحون) ” اور یہی لوگ فلاح سے بہرہ ور ہیں“ جنہوں نے اپنے رب کی رضا‘ اس کے دنیاوی اور اخروی ثواب کو پالیا اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچ گئے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فلاح کے راستے پر گامزن ہوئے‘ جس کے سوا فلاح کا کوئی اور راستہ نہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سعادت مند لوگوں کا ذکر کیا جنہوں نے قرآن مجید کے ذریعے سے ہدایت حاصل کی‘ تو اس کے بعد‘ ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن سے روگردانی کرتے ہیں اور اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ ان کو اس کی سخت سزا دی جائے گی‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کے بدلے ہر باطل قول اختیار کرکے‘ بہترین قول اور احسن الحدیث کو چھوڑ دیا اور اس کے بدلے قبیح ترین اور انتہائی گھٹیا اقوال کو اختیار کیا‘ اسی لیے فرمایا :