سورة الروم - آیت 55

وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ ۚ كَذَٰلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور جب قیامت برپا ہوگی تو مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے ہیں، اسی طرح وہ دھوکا کھایا کرتے تھے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت نمبر : 55۔57 اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کے بارے میں آگاہ فرما رہا ہے کہ وہ بہت جلد آنے والا ہے اور جب قیامت قائم ہوگی تو (یقسم المجرمون) ” مجرم اللہ کی قسمیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے“ کہ بلاشبہ وہ (مالبتوا) ” نہیں رہے تھے“ دنیا میں (غیر ساعۃ) ” سوائے ایک گھڑی کے“ وہ یہ عذر اس لیے پیش کریں گے کہ شاید دنیا کی مدت کو کم کہنا انہیں کوئی فائدہ دے۔ چونکہ ان کی یہ بات جھوٹ پر مبنی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ فرمائے گا : (کذلک کانوا یؤفکون) ” وہ اسی طرح غلط اندازے لگایا کرتے تھے۔“ یعنی وہ دنیا کے اندر بھی ہمیشہ حقائق کو چھوڑ کر کذب بیان کرتے رہے اور جھوٹ گھڑتے رہے‘ دنیا کے اندر انہوں نے حق کی تکذیب کی جسے انبیائے کرام لے کر آئے تھے اور آخرت میں وہ امر محسوس‘ یعنی دنیا کے اندر طویل مدت تک رہنے کا انکار کریں گے۔ یہ ان کا بدترین خلق ہے اور بندہ اسی عادت اور ہیئت پر اٹھایا جائے گا جس پر وہ مرے گا۔ (وقال الذین اوتوا العلم والایمان) ” اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے۔“ یعنی جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے ان دو چیزوں کے ساتھ احسان کیا اور حق کا علم اور وہ ایمان جو حق کی ترجیح کو مستلزم ہے ان کا وصف بن گیا۔ جب انہوں نے حق کو جان لیا اور حق کو ترجیح دی تو لازم ہے کہ ان کا قول واقع اور ان کے احوال کے مطابق ہو‘ بنا بریں وہ حق بات کہیں گے : (لقد لبثتم فی کتب اللہ) ” تم اللہ کی کتاب کے مطابق رہے ہو۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کے مطابق‘ جو اس نے اپنے حکم میں تمہارے لیے مقرر کردی تھی (الی یوم البعث) ” قیامت تک“ یعنی تمہیں اس قدر عمر دی گئی تھی کہ جس میں نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کرسکتا تھا‘ تدبر کرنے والا اس میں تدبر کرسکتا تھا اور عبرت پکڑنے والا اس میں عبرت پکڑسکتا تھا حتیٰ کہ قیامت آگئی اور تم اس حال کو پہنچ گئے۔ (فھذا یوم البعث ولکنکم کنتم لا تعلمون) ” پس یہ یوم قیامت ہے‘ لیکن تم (اسے حق) نہیں جانتے۔“ اس لیے تم نے اس کا انکار کیا‘ تم نے دنیا میں ایک مدت تک کے لیے اپنے قیام کا انکار کیا جس میں توبہ اور انابت تمہارے بس میں تھی‘ مگر جہالت اور اس کے آثار‘ یعنی تکذیب تمہارا شعار اور خسارہ تمہارا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔ (فیؤمئذ لا ینفع الذین ظلموا معذرتھم) ” یقیناً اس دن ظالمو کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہیں دے گی“ یعنی اگر وہ جھوٹ بولتے ہوئے یہ سمجھیں کہ ان پر حجت قائم نہیں ہوئی یا ایمان لانا ان کے بس میں نہ تھا تو اہل علم و ایمان کی گواہی بلکہ خود ان کی اپنی کھالوں‘ ان کے ہاتھوں اور پاؤں کی گواہی سیان کو جھٹلا دیا جائے گا۔ اگر وہ معذرت کی اجازت چاہیں کہ ان کو اب واپس لوٹا دیا جائے تو وہ ایسا کام ہرگز نہیں کریں گے جس سے انہیں روکا گیا ہے۔۔۔ تو ان کی معذرت قبول نہ کی جائے گی۔ (ولا ھم یستعتبون) ” اور نہ ان سے توبہ قبول کی جائے گی“ یعنی وہ ہمیشہ زیرہ عتاب رہیں گے۔