سورة الروم - آیت 46

وَمِنْ آيَاتِهِ أَن يُرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرَاتٍ وَلِيُذِيقَكُم مِّن رَّحْمَتِهِ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی نشانی ہے کہ وہ خوشخبری دینے کے لیے ہوائیں بھیجتا ہے تاکہ تمہیں اپنی رحمت سے ہمکنار کرے اور اس کے حکم سے کشتیاں چلتی ہیں۔ تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گزار ہو جاؤ

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت نمبر : 46 یہ ان دلائل کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کرے گا لیے کہ اللہ تعالیٰ ہی الٰہ معبود اور بادشاہ محمود ہے۔ ان دلائل میں سے ایک (ان یرسل الریاح) بارش سے پہلے اس کا ہواؤں کو بھیجنا ہے۔ (مبشرت) جو بادلوں کو اٹھا کر خوشخبری دیتی ہیں‘ پھر بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں اور بارش کے برسنے سے پہلے نفس خوش ہوتے ہیں۔ (ولیذیقکم من رحمتہ) ” اور تاکہ وہ تمہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھائے۔“ وہ تم پر بارش برساتا ہے‘ جس سے زمین اور بندوں میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ تم اس کی رحمت کا مزا چکھتے ہو اور وہ تمہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی بندوں کو ان کا رزق فراہم کرتی ہے‘ لہٰذا تم ان اعمال صالحہ کی کثرت کے مشتاق ہوجاؤ جو اس کی رحمت کے خزانے کھول دیں۔ (ولتجری الفلک) ” اور تاکہ کشتیاں چلیں“ سمندر کے اندر (بامرہ) اس کے حکم قدری سے (ولتبتغوا من فضلہ) اور اپنی معاش اور مصالح میں تصرف کے ذریعے سے اللہ کا فضل تلاش کرو۔ (ولعلکم تشکرون) ” اور شاید کہ تم شکر ادا کرو“ اس ہستی کا جس نے تمہارے لیے یہ اسباب مہیا کیے اور تمہارے لیے رزق کے ذرائع پیدا کئے۔ نعمتوں سے مقصود یہ ہے کہ ان کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں اور زیادہ نعمتوں سے سرفراز کرے اور ان نعمتوں کو تمہارے پاس باقی رکھے۔ رہا نعمتوں کے مقابلے میں کفر اور معاصی کا ارتکاب کرنا تو یہ اس شخص کا حال ہے جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کو کفر سے بدل دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عنایات کے بدلے ناشکری کرتا ہے۔ اس کے اس رویے سے نعمتیں اس شخص سے کسی دوسرے شخص کی طرف منتقل ہوجاتی ہیں۔