سورة النور - آیت 30

قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اے نبی ! مومن مردوں سے فرمایں کہ اپنی نظریں بچاکررکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت پاکیزہ طریقہ ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے۔ (٣٠)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(آیت نمبر 30) (قل للمومنین) مومنوں سے فرمائیے اور ان لوگوں سے کہ دیجیے جن کے پاس کچھ ایمان ہے جو انہیں ایسے امور میں پڑنے سے روکتا ہے جو ایمان میں خلل ڈالتے ہیں۔ ( یغضوا من ابصارر ھم ) ” وہ اپنی نظروں کو پست رکھیں۔“ یعنی قابل ستر اور اجنبی عورتوں کی طرف سے اپنی نظروں کو ہٹا لیا کریں‘ ان بے ریش لڑکوں پر سے بھی نظر ہٹا لیں جن کو دیکھنے سے فتنے میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو‘ نیز دنیا کی زیب و زینت کی طرف بھی جن کو دیکھ کر فتنے میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو‘ نیز دنیا کی زیب و زینت کی طرف بھی جن کو دیکھ کر فتنے میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو اور جو حرام میں مبتلا کردیتی ہیں۔ (وٰیحفظوا فروجھم) یعنی عورتوں یا مردوں کے ساتھ بدکاری یا ان کے علاوہ دوسری صورتوں سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ اسی طرح ان کو چھونے اور ان کو دیکھنے سے بچیں۔ (ذلک) آنکھوں اور شرم گاہ کی یہ حفاظت ( ازکی لھم) ان کے لیے زیادہ طہارت‘ پاکیزگی اور ان کے اعمال خیر میں زیادہ اضافے کا باعث ہے کیونکہ جو کوئی اپنی نظر اور شرم گاہ کی حفاظت کرتا ہے اور اس گندگی سے پاک ہوجاتا ہے جس میں فواحش کے مرتکب لوگ ملوث ہوتے ہیں اور ان محرمات کو ترک کرنے سے‘ نفس جن کی خواہش کرتا اور ان کی طرف دعوت دیتا ہے‘ اعمال خیر میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خاطر کوئی چیز ترک کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے۔ جو کوئی اپنی آنکھوں کو حرام پر پڑنے سے بچائے رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی بصیرت کو روشن کردیتا ہے۔۔۔ نیز اگر بندہ اپنی شرم گاہ اور نظر کو حرام اور اس کے کے مقدمات میں پڑنے سے بچا سکتا ہے درآنحالیکہ شہوت کا داعیہ پوری طرح موجود ہو‘ تو وہ دوسرے حرام میں پڑنے سے اپنے آپ کو زیادہ بچا سکتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ” حفاظت“ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ پس کسی محفوظ چیز کی حفاظت کے لیے نگرانی اور ان اسباب کو بروئے کار نہ لایا جائے جو اس کی حفاظت کے موجب بنیں تو وہ چیز محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اسی طرح نظر اور شرم گاہ کا معاملہ ہے‘ اگر بندہ ان کی حفاظت کی کوشش نہیں کرتا تو وہ ان کو آزمائشوں اور مصیبتوں میں ڈال دیتی ہیں علاوہ ازیں غور کیجیے‘ اللہ تعالیٰ نے کیسے شرم گاہ کی حفاظت کا مطلق طور پر حکم دیا ہے‘ کیونکہ شرم گاہ ( کا غلط استعمال کسی حالت میں بھی جائز نہیں۔ لیکن نظر کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (یغضوا من ابصارھم) حرف جار (من) تبعیض پر دلالت کرتا ہے کیونکہ بعض حالات میں‘ کسی ضرورت کے تحت غیر محرم چہروں کو دیکھنا جائز ہے۔ مثلاً گواہ‘ حاکم اور نکاح کا پیغام دینے والے کے لیے غیر محرم چہروں پرنظر ڈالناجائز ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کئی اعمال کا ذکر فرمایا ہے تاکہ لوگ محرمات سے اپنے نفسوں کی حفاظت کرنے کی کوشش کریں۔