سورة النور - آیت 4

وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں اور پھر چارگواہ پیش نہ کریں ان کو اسّی کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کی جائے کیونکہ وہ فاسق ہیں۔ (٤)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(آیت نمبر (4 چونکہ کوڑوں کی سزا کے وجوب کی وجہ سے زانی کے معاملہ کو بڑی اہمیت دی گئی ہے‘ نیز اگر وہ شادی شدہ ہے تو رجم بہت بڑا معاملہ ہے اسی طرح زانی کے ساتھ ہم نیشنی اور اس سے اختلاط‘ کسی بھی لحاظ سے جائز نہیں‘ جس سے بندہ شر سے محفوظ نہ رہ سکے اس لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی عزت و ناموس پر زنا کی تہمت لگانے کو بہت بڑا اقدام قرار دیا ہے‘ چنانچہ فرمایا : (والذین یرمون المحصنت) یعنی وہ لوگ جو پاک باز عورتوں پر بہتان لگاتے ہیں‘ اسی طرح پاک باز مردوں پر بہتان طرازی کرتے ہیں۔ دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ یہاں بہتان سے مراد‘ سیاق کے اعتبار سے زنا کا الزام لگانا ہے۔ (ثم لم یا تو ) ” پھر نہ پیش کرسکیں وہ“ یعنی اس پر جو انہوں نے بہتان لگایا (باربعۃ شھداء ) ” چار گواہ“ یعنی چار عادل مرد‘ جو نہایت صراحت کے ساتھ زنا کی گواہی دیں۔ (فاجلد و ھم ثمنین جلدۃ ) ” تو انہیں (ایک متوسط کوڑے کے ساتھ) اسی (80) کوڑے مارو“ جن سے بہتان لگانے والے کو تکلیف پہنچے‘ مگر کوڑے کی سختی اتنی زیادہ نہ ہو جس سے اس کی جان چلی جائے کیونکہ کوڑے لگانے سے مقصود تادیب ہے نہ کہ جان لینا۔ اس آیت کریمہ میں بہتان لگانے کی حد کا تعین ہے۔ البتہ یہ حد اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ جس پر بہتان لگایا گیا ہے وہ مومن اور پاک دامن ہو اور اگر وہ پاک دامن نہ ہو تو بہتان لگانے والے پر حد نہیں لگائی جائے گی یہ چیز صرف تعزیر کی موجب ہے۔ (ولا تقبلو لھم شھادۃ ابدا) ” یہ ایک اور سزا ہے یعنی بہتان طرازی کرنے والے کی گواہی قابل قبول نہیں خواہ اس پر قذف کی حد جاری کیوں نہ کردی گئی ہو۔ جب تک کہ وہ بہتان طرازی سے توبہ نہ کرے۔ جیسا کہ عنقریب اس کا بیان آئے گا۔ (واولئک ھم الفسقون ) ” یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل جانے والے ہیں“ اور جن کا شر بہت زیادہ ہے۔ یہ سزا اس لیے دی گئی ہے کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کیا اور اپنے بھائی کی ہتک عزت کی اور لوگوں کو اس کے بارے میں بڑھ چڑھ کر باتیں بنانے کا موقع فراہم کیا اور اس قذف کے ذریعے سے وہ اس اخوت کو زائل کرنے کا باعث بنا جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے مابین قائم کی تھی اور اس نے چاہا کہ اہل ایمان میں فواحش پھیل جائیں۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قذف گناہ کبیرہ ہے۔ (الا الذین تابو من بعد ذلک واصلحوا فان اللہ غفورر رحیم) یہاں توبہ سے مراد یہ ہے کہ بہتان طرازی کرنے والا خود اپنی تکذیب کرے یعنی وہ اس بات کا اقرار کرے کہ اس نے جھوٹا الزام لگایا تھا اپنی تکذیب کرنا اس پر واجب ہے اگرچہ اس کو زنا کے وقوع کا یقین ہو مگر وہ چار گواہ مہیا نہ کرسکے تب بھی اس الزام کی تردید کرنا اس پر واجب ہے۔ اگر بہتان طرازی کرنے والا توبہ کر کے اپنے عمل کی اصلاح کرلے اور برائی کی بجائے بھلائی کو وتیرہ بنا لے تو اس کا فسق زائل ہوجائے گا اور صحیح مذہب ہے کہ اس کی شہادت بھی قابل قبول ہے کیونکہ جو کوئی توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ بہتان لگانے والے کو اس صورت میں کوڑے مارے جائیں گے جب وہ چار گواہ مہیا نہ کرسکے اور جس پر اس نے بہتان لگایا ہے وہ اس کی بیوی نہ ہو۔ اگر جس پر اس نے بہتان لگایا ہے وہ اس کی بیوی ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس صورت حال کا ذکر اس طرح کیا ہے۔