سورة المؤمنون - آیت 81

بَلْ قَالُوا مِثْلَ مَا قَالَ الْأَوَّلُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” بلکہ یہ لوگ وہی کچھ کہتے ہیں جو ان کے پہلے کہہ چکے ہیں۔ (٨١)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت نمبر (81 (بل قالو مثل ما قال الاولون) ” بلکہ انہوں نے بھی ایسی ہی بات کہی جو پہلوں نے کہی تھی۔“ یعنی یہ مکذبین بھی انہیں راہوں پر چل پڑے جن پر ان سے پہلے زندگی بعد موت کی تکذیب کرنے والے گامزن تھے‘ زندگی بعد موت کو بہت بعید سمجھتے تھے اور کہا کرتے تھے : (ع اذا متنا و کنا ترابا و عظاما عء انا لمبعوثن) ” کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے‘ تو کیا ہم زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے؟“ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق اس کا تصور کیا جاسکتا ہے نہ یہ بات عقل میں آسکتی ہے۔ (لقد وعدنا نحن و آباء نا ھذا من قبل) یعنی ہمارے ساتھ ہمیشہ سے یہ وعدہ کیا جاتا رہا ہے کہ قیامت آئے گی‘ ہمیں اور ہمارے آباء و اجداد کو دوبارہ زندہ کیا جاۓ گا اور ہم نے تو اسے نہیں دیکھا اور نہ آئندہ ہی وہ آئے گی۔ (ان ھذا الا اساطیر الاولین) یہ تو محض قصے کہنایاں ہیں جو کھیل کے طور پر بیان کی جاتی ہیں ورنہ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ وہ جھوٹ کہتے ہیں۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کروایا جو قیامت کے برباد ہونے سے بھی بڑی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس) (المومن : (57/40” آسمانوں اور زمین کی تخلیق یقیناً انسان کی تخلیق سے زیادہ بڑا کام ہے۔“ اور فرمایا : (و ضرب لنا مثلا و نسی خلقہ قال من یحی العاظام وھی رمیم) (یس (78/36” وہ ہمارے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنی تخلیق کو بھول جاتا ہے اور کہتا ہے ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہو کر مٹی بن چکی ہوں گی۔“ اور فرمایا : (وتری الارض ھا مدۃ فاذ انزلنا علیھا الماء اھتزت و ربت) (الحج (5/22 ” تو زمین کو دیکھتا ہے کہ وہ سوکھی پڑی ہے‘ ہم نے اس پر پانی برسایا تو وہ لہلہا اٹھی اور پھول گئی۔ “