سورة الحج - آیت 14

إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے یقیناً اللہ ان لوگوں کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“ (١٤)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 14 جب اللہ تعالیٰ نے باطل دلیلوں سے جھگڑنے والے کا ذکر فرمایا اور یہ بھی بتایا کہ ایسے لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں، ایک مقلدین اور دوسرے اپنی بدعات کی طرف دعوت دینے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بھی دو اقسام ذکر فرمائیں جو اپنے آپ کو ایمان سے منسوب کرتے ہیں۔ پہلی قسم ان لوگوں کی جن کے دلوں میں ابھی ایمان داخل نہیں ہوا جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا اور دوسری قسم ان لوگوں کی جو حقیقی مومن ہیں جنہوں نے اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی۔ پس ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ جنت کو ” جنت“ اس لئے کہا گیا ہے کیونکہ یہ خوبصورت منازل، محلوں، درختوں اور نباتات پر مشتمل ہے یہ درخت اور نباتات اپنی کثرت کے باعث ان لوگوں کو ڈھانپ لیں گے اور ان پر سایہ کناں ہوں گے جو اس میں داخل ہوں گے۔ (ان اللہ یفعل ما یرید) پس اللہ تعالیٰ جو بھی ارادہ کرتا ہے اسے بغیر کسی مانع اور معارض کے، کر گزرتا ہے۔ اس کا ایک ارادہ یہ ہے کہ وہ اہل جنت کو جنت میں داخل کرے گا۔۔۔. اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم اور احسان سے ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے۔ (٥١) یعنی جو کوئی یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ٓ) کی مدد نہیں کرے گا اور اس کا دین عنقریب ختم ہوجائے گا تو بلا شبہ ومدد اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ (فلیمدد بسبب الی السمآء ثم لیقطع) ” پس وہ آسمان کی طرف رسی دراز کرے، پھر کاٹ دے۔“ رسول اللہٓ سے اس مدد کو منقطع کر دکھائے۔ (فلینظر ھل یذھبن کیدہ) یعنی وہ کیا چیز ہے جس کے ذریعے سے وہ رسول اللہٓ کے خلاف چال چل سکتا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف جنگ برپا کرسکتا ہے، جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے ابطال کی خواہش رکھتا ہے وہ کیا چیز ہے جو دین کے ظہور پر اسے غیظ و غضب میں مبتلا کرتی ہے۔۔۔. یہ استفہام نفی کے معنی میں ہے یعنی وہ ان اسباب کے ذریعے سے اپنے غیظ و غضب کو ٹھنڈا نہیں کرسکتا۔ اس آیت مقدسہ کا معنیٰ یہ ہے، اے وہ شخص ! جو محمد رسول اللہٓ سے عداوت رکھتا ہے، جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین کو مٹانے میں کوشاں ہے، جو اپنی جہالت کی بنا پر سمجھتا ہے کہ اس کی کوشش رنگ لائے گی، تجھے معلوم ہونا چاہئے کہ تو جو بھی اسباب اختیار کرلے، رسول (ٓ) کے خلاف کوئی بھی چال چل لے، اس سے تیرے غیظ و غضب اور تیرے دل کی بیماری کو شفا حاصل نہیں ہوگی۔ اس پر تجھے کوئی قدرت حاصل نہیں البتہ ہم تجھے ایک مشورہ دیتے ہیں جس سے تو اپنے دل کی آگ کو ٹھنڈا کرسکتا ہے اور اگر یہ ممکن ہے کہ تو رسول (ٓ) سے اللہ کی مدد و نصرف کو منقطع کرسکتا ہے، تو معاملے میں صحیح راستے سے داخل ہو اور درست اسباب اختیار کر اور وہ یہ کہ کھجور وغیرہ کی چھال سے بٹی ہوئی رسی لے، پھر اسے آسمان پر لٹکا کر آسمان پر چڑھ جا اور ان دروازوں تک پہنچ جا جہاں سے اللہ تعالیٰ کی نصرت نازل ہوتی ہے اور ان دروازوں کو بند کر کے اللہ تعالیٰ کی مدد منقطع کر دے۔ اس طریقے سے تیرے غیظ و غضب کو شفا حاصل ہوگی۔۔۔. بس یہ تجویز اور چال ہے اس طریقے کے علاوہ تیرے دل میں بھی یہ بات نہیں آنی چاہئے کہ تو اپنے غیظ و غضب سے چھٹکارا پا سکتا ہے خواہ مخلوق تیری مدد کے لئے کمر کیوں نہ باندھ لے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے دین، اپنے رسول اور اپنے مومن بندوں کے لئے فتح و نصرت کا جو وعدہ اور خوشخبری ہے، وہ مخفی نہیں اور کفار کے لئے مایوسی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے اور خواہ وہ اس نور کو بجھانے کی امکان بھر کوشش کیوں نہ کرلیں۔