سورة طه - آیت 132

وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۖ لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَىٰ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اپنے اہل وعیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کی پابندی کرو ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے رزق ہم تمہیں دیتے ہیں اور انجام کی بہتری تقویٰ میں ہے۔“ (١٣٢)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 132 اپنے گھر والوں کو نماز کی ترغیب دیجئے، انہیں فرض اور نفل نماز پڑھنے کا حکم دیتے رہیے اور کسی چیز کا حکم دینا ان تمام امور کو شامل ہے جن کے بغیر سا چیز کی تکمیل نہیں ہوتی۔ پس یہ حکم، اپنے گھر والوں کو نماز کے بارے میں ان امور کی تعلیم دینا ہے جو نماز کی اصلاح کرتے ہیں، جو نماز کو فاسد کرتے ہیں اور جو نماز کی تکمیل کرتے ہیں۔ (واصطبرعلیھا) ” اور خود بھی اس پر جمے رہیے۔“ یعنی نماز پر، اس کی تمام حدود، اس کے ارکان، اس کے آداب اور اس کے خشوع و خضوع کے ساتھ۔ کیونکہ اس میں نفس کے لئے مشقت ہے۔ تاہم مناسب یہی ہے کہ دائمی طور پر نفس کو نماز پڑھنے پر مجبور اور اس کے ساتھ جہاد کرتے رہنا چاہیے اور اس پر صبر کرنا چاہیے کیونکہ بندۂ مومن جب اس طریقے سے نماز قائم کرتا ہے جس طریقے سے قئام کرنے کا اسے حکم دیا گیا ہے تو نماز کے علاوہ دیگر دین کی حفاظت کرنے اور اس کو قائم کرنے کی اس سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے۔ اگر وہ نماز کو ضائع کرتا ہے تو دیگر دین کو زیادہ برے طریقے سے ضائع کرے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رزق کی ضمانت دی اور ترغیب دی کہ آپ اقامت دین کو چھوڑ کر حصول رزق میں مشغول نہ ہوں۔ چنانچہ فرمایا : (نحن نرزقک) یعنی آپ کا رزق ہمارے ذمہ ہے ہم نے جس طرح تمام خلائق کے رزق کی کفالت اپنے ذمہ لی ہے اسی طرح آپ کے رزق کی کفالت بھی ہمارے ذمہ ہے۔ اس شخص کے رزق کی ذمہ داری ہم پر کیسے نہ ہو جو ہمارے حکم کی تعمیل کرتا ہے اور ہمارے ذکر میں مشغول رہتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کا رزق متقی اور غیر متقی سب کے لئے عام ہے، اس لئے ان امور کا اہتمام کرنا چاہیے جن پر ابدی سعادت کا دارومدار ہے اور وہ ہے تقویٰ، لہٰذا فرمایا : (والعاقبۃ) یعنی دنیا و آخرت کا انجام (للتقویٰ) تقویٰ کے لئے ہے اور تقویٰ سے مراد ہے مامورات کی تعمیل اور منہیات سے اجتناب اور جو کوئی ان کو قائم کرتا ہے، انجام اسی کا اچھا ہے جیسا کہ فرمایا : (والعاقبۃ للمتقین) (الاعراف : ٨/١٢٨) ” اور اچھا انجام متقین کا ہے“۔