سورة طه - آیت 104

نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذْ يَقُولُ أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا باتیں کر رہے ہوں گے۔ اس وقت ان میں سے سے پختہ یقین کے ساتھ کہنے والا کہے گا کہ تمہاری دنیا کی زندگی صرف ایک دن کی تھی۔“ (١٠٤)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیات (104) یعنی جب صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگ اپنے اپنے حسب حال اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، اہل تقویٰ وفد کی صورت میں رحمن کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور مجرم اس حال میں اکٹھے کئے جائیں گے کہ خوف، غم اور سخت پیاس کے مارے ان کا رنگ نیلا پڑگیا ہوگا، تو وہ ایک دوسرے سے سرگرشیاں کریں گے اور نہایت پست آواز میں دنیا کی مدت کے کم ہونے اور آخری کے جلد آجانے کے بارے میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ کہیں گے کہ تم لوگ بس دس دن دنیا میں رہے ہو اور بعض دوسرے لوگ کچھ اور کہیں گے۔ پست آواز میں وہ جو سرگوشیاں کر رہے ہوں گے اللہ انہیں جانتا ہوگا اور جو باتیں کر رہے ہوں گے وہ انہیں سنتا ہوگا (اذ یقول امثلھمہ طریقۃ) یعنی ان میں سے سب سے زیادہ معتدل اور اندازے کے سب سے زیادہ قریب شخص کہے گا : (ان لبثتم الا یوما) تم صرف ایک دن دنیا میں رہے ہو۔ اس سے ان کا مقصد بہت بڑی ندامت اور پشیمانی کا اظہار ہے کہ انہوں نے اوقات قصیرہ کیسے ضائع کردیے اور غفلت اور لہو و لعب میں ڈوب کر فائدہ اعمال سے اعراض کرتے ہوئے اور نقصان دہ اعمال میں پڑ کر ان اوقات کو گزار دیا۔ اب جزا کا وقت آگیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہوا اور اب ندامت، ہلاکت اور موت کی دعا کے سوا کچھ باقی نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (قل کم لبثتمہ فی الارض عدد سنین۔ قالو البثنا یوما او بعض یومہ فسئل العأدین۔ قل ان لبثمہ الا قلیلا لو انکم نتم تعلمون) ” اللہ پوچھے گا تم زمین میں کتنے سال رہے ہو؟ وہ جواب دیں گے کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے ! فرمایا تم زمین میں بہت تھوڑا ٹھہرے ہو، کاش تم نے اس وقت جانا ہوتا“۔