سورة طه - آیت 56

وَلَقَدْ أَرَيْنَاهُ آيَاتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَأَبَىٰ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ہم نے فرعون کو اپنی تمام نشانیاں دکھائیں مگر وہ جھٹلاتاچلا گیا اور انکار کرتا رہا۔‘ (٥٦)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 56 اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرو نہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ پس اس نے موسیٰ سے کہا۔ (اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک) ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو ہم کو ہمارے زمین سے نکال دے۔“ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ نے جو معجزات دکھائے ہیں، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سر زمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰ کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ اناسین طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لئے بہت مشکل ہوتا ہے۔ پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰ کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہوجائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہوجائیں۔ فرعون نے موسیٰ سے کہا کہ ہم بھی تمہارے جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ (موعد الا نخلفہ نحن ولا انت مکانا سوی) اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمہیں بھی۔ یا کؤی ہموار میدان ہو جہاں ان کر تبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔ موسیٰ نے فرمایا : (موعدکم یوم الزینۃ) ” زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔“ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کردیتے تھے۔ (وان یحشر الناس ضعی) یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰ نے یہ مطالبہ اس لئے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہوسکتا۔ (فتولی فرعون فجمع کیدہ) یعنی اس نے وہ تمام واسئل جمع کر لئے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہر کارے دوڑا دیئے تاکہ وہ ماہر جادو گردوں کو اکٹھا کریں۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادوگروں کا ایک جم غفیر اکٹھاکر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آگئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہوگئے۔ اتجماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لئے جمع ہوگئے انہوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انہوں نے لوگوں سے کہا تھا : (آیت) ” کیا تم اجتماع میں اکٹھے ہو گے؟ تاکہ اگر جادو اگر جادو گر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں۔ “ جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہوگئے تو موسیٰ نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمہیں تباہ کر دے گا۔ تمہاری کوشش اور تمہاری بہتان طرازی ناکام ہوجائے گی اور تمہیں فتح و نصرت اور فعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہوگی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔