سورة مريم - آیت 81

وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کے مددگار ہوں گے حالانکہ ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ (٨١)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 81 یہ کفار کی سزا ہے۔ اس لئے کہ جب انہوں نے اللہ کے حکموں کو نہیں مانا اور نہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا بلکہ اس کے برعکس انہوں نے شرک کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں یعنی شیاطین کے ساتھ موالات رکھی، تو اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو ان پر مسلط کردیا اور شیاطین نے ان کو ورغلا کر گناہوں پر آمادہ کرنا شروع کردیا۔ وہ انہیں کفر کی ترغیب دیتے ہیں، انہیں وسوسوں میں مبتلا کرتے ہیں، ان پر القاء کرتے ہیں اور ان کے سامنے باطل کو مزین کر کے اور حق کو بدنما بنا کر پیش کرتے ہیں۔ پس باطل کی محبت ان کے دلوں میں داخل ہو کر جاگزیں ہوجاتی ہے، وہ باطل کی خاطر اسی طرح کوشش کرتا ہے جس طرح حق پرست حق کے لئے جدوجہد کرتا ہے، وہ اپنی کوشش اور سعی سے باطل کی مدد کرتا ہے اور باطل کے راستے میں حق کے خلاف جدوجہد کرتا ہے اور یہ سب کچھ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے حقیقی دوست اور سرپرست سے منہ موڑ کر اپنے دشمن کو دوست بنا لیا اور اپنے آپ کو اس کے تسلط میں دے دیا۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آتا اور اس پر بھروسہ کرتا تو شیطان اس پر کبھی تسلط قائم نہ کرسکتا جیاس کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اسے ان لوگوں پر کوئی اختیار حاصل نہیں جو ایمان لاتے اور اپنے رب بھروسہ کرتے ہیں اس کا بس تو صرف انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اسے اپنا دوست بناتے ہیں اور ان پر جو اس (کے گمراہ کرنے) کی وجہ سے شرک کرتے ہیں۔ “ (فلا تعجل علیھم) یعنی آپ ان کفار کے بارے میں عجلت نہ کیجیے جو عذاب کے لئے جلدی مچاتے ہیں۔ (انما نعدلھم عداً) ” ہم تو خود ہی ان کے لئے (مدت) شمار کر رہے ہیں۔“ یعنی ان کے لئے دن مقرر کردیئے گئے ہیں جن میں کوئی تقدیم ہوگی نہ تاخیر۔ ہم انہیں کچھ مدت کے لئے مہلت دے کر برباد باری سے کام لے رہے ہیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ جب اس مہلت کا کوئی فائدہ نہ ہوا تو ہم اسے ایک غالب اور مقتدر ہستی کی طرح اپنی گرفت میں لے لیں گے۔