سورة مريم - آیت 53

وَوَهَبْنَا لَهُ مِن رَّحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور اپنی مہربانی سے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنایا۔“ (٥٣)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 53 یعنی اس قرآن عظیم میں، حضرت موسیٰ بن عمران کی تعظیم و توقیر، ان کے مقام عالی قدر اور اخلاق کاملہ کی تعریف کے طور پر، ان کا ذکر کیجیے۔ (انہ کان مخلصاً) (مخلصاً) کو لام کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اس کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے پسند کرلیا اور اسے چن لیا۔ ایک دوسری قرأت میں (مخلصا) کو لام کی زیر کے ساتھ پڑھا گیا ہے تب اس کے معنی یہ ہوگا کہ حضرت موسیٰ اپنے تمام اعمال، اقوال اور نیت میں اللہ تعالیٰ کے لئے مخلص تھے۔ ان کے تمام احوال میں اخلاص ان کا وصف تھا۔۔۔ دونوں معنی ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے اخلاص کی بنا پر ان کو چن لیا اور ان کا اخلاص اس بات کا موجب تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو چن لے اور بندہ مومن کا جلیل ترین حال یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے لئے اخلاص کا حامل ہو اور اس کا رب اسے اپنے لئے چن لے۔ (وکان رسولاً نبیاً) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان یک ذات میں رسلات اور نبوت کو یکجا کردیا۔ پس راسلت، بھیجنے والے کے کلام کی تبلیغ کا تقاضا کرتی ہے، نیز یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ شریعت کی جو بھی چھوٹی یا بڑی چیز آئی ہے اسے بندوں تک پہنچایا جائے۔۔۔ اور نبوت اس بات کی مقتضی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر وحی آتی ہو اور اللہ تعالیٰ نے وحی کی تنزیل کے لئے اسے مختص کرلیا ہو۔ پس نبوت کا تعلق بندے اور اس کے رب کے درمیان ہے اور راسلت کا تعلق بندے اور مخلوق کے درمیان ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو وحی کی جلیل ترین اور سب سے افضل نوع کے ساتھ خاص فرمایا اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ان سے کلام کرنا اور انہیں اپنی سرگوشی کیلئے اپنے قریب کرنا۔ انبیاء میں سے اس فضیلت کے ساتھ صرف موسیٰ کو خاص کیا گیا کہ وہ رحمان کے کلیم ہیں۔ اسی لئے فرمایا : (ونادینہ من جانب الظور الایمن) یعنی حضرت موسیٰ کی دائیں جانب سے، جب وہ سفر کر رہے تھے، ہم نے ان کو ندادی (الایمن) سے مراد بابرکت ہے یعنی یہ (یمن) ” برکت“ سے ہے اور اس معنی پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے۔ (آیت) ” بابرکت ہے وہ ہستی جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے۔ “ (وقربنہ نجیاً) ” اور ہم نے موسیٰ کو سرگوشی کے لئے اپنے قریب کیا۔“ ندا اور مناجات میں فرق یہ ہے، کہ ندا بلند آواز میں ہوتی اور مناجات اس سے کم تردھیمی آواز میں ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کی تمام انواع مثلاً ندا اور مناجات وغیرہ، کا اثبات ہوتا ہے جیاس کہ اہل سنت و اجلماعت کا مذہب ہے۔ اس کے برعکس جھمیہ، معتزلہ اور ان کے ہم مسلک گروہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتے ہیں۔ (ووھبنالہ من رحمتنا اخاہ ہرون نبیاً) یہ حضرت موسیٰ کی سب سے بڑی فضیلت ہے اور ان کا اپنے بھائی ہارون کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خیر خواہی ہے کہ انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ وہ ان کے بھائی حضرت ہارون کو ان کی ذمہ داری میں شریک کر کے انہیں بھی ان کی مانند رسول بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو رسول بنا دیا۔۔۔ پس ہارون کی نبوت حضرت موسیٰ کی نبوت کے تابع ہے، حضرت ہارون نبوت کے معاملات میں حضرت موسیٰ کی مدد اور اعانت کرتے تھے۔