سورة الإسراء - آیت 9

إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” بلاشبہ یہ قرآن اس راستے کی ہدایت دیتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اور ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں، بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔“ (٩) ”

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت نمبر 9 اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کریم کے شرف اور اس کی جلالت شان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور یہ کہ وہ (یھدی للتی ھی اقوم) ،، بتلاتا ہے وہ راستہ جو سب سے زیادہ سیدھا ہے،، یعنی عقائد اعمال اور اخلاق کے بارے میں زیادہ معتدل اور بلند موقف کا حامل ہے، لہٰذا جو کوئی ان امور سے راہنمائی حاصل کرتا ہے جن کی طرف قرآن دعوت دیتا ہے تو وہ تمام امور میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، سب سے زیادہ درست اور سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے۔ (ویبشر المومنین الذین یعملون الصلحٰت) ،، اور خوش خبری سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے عمل کرتے ہیں،، یعنی و اجبات و سنن ادا کرتے ہیں۔ (ان لھم اجراً کبیراً) ،، کہ ان کے لئے ہے بڑا ثواب،، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے عزت والے گھر میں تیار کر رکھا ہے جس کے وصف کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا (و انا الذین لا یومنون بالآخرۃ اعتدنا لھم عذاباً الیماً) ،، اور یہ کہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، ان کے لئے ہم نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے۔ ،، قرآن کریم تبشیر و انذار پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ اسباب ذکر فرما دیئے ہیں جن کی بنا پر بشارت ملتی ہے اور وہ ہیں ایمان اور عمل صالح اور ان اسباب کا بھی ذکر فرمایا ہے جو انذار کا مستحق ٹھہراتے ہیں اور وہ ہیں ایمان اور عمل صالح کے متضاد امور۔