سورة النحل - آیت 83

يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنكِرُونَهَا وَأَكْثَرُهُمُ الْكَافِرُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

وہ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں۔“ (٨٣)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت : (84-87) اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کفار کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس روز ان سے کوئی عذر قبول کیا جائے نہ ان سے عذاب کو رفع کیا جائے گا اور ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے اور وہ اقرار کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اس پر افتراز پردازی کیا کرتے تھے‘ چنانچہ فرمایا : (ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا) ” اور جس دن کھڑا کریں گے ہم ہر امت میں سے ایک گواہی دینے والا“ جو ان کے اعمال پر گواہی دے گا کہ انہوں نے داعی ہدایت کو کیا جواب دیا تھا اور یہ گواہ جس کو اللہ گواہی کے لئے کھڑا کرے گا‘ وہ سب سے پاک اور سب سے عادل گواہ ہوگا اور یہ گواہ رسول ہی ہوں گے۔ جب وہ گواہی دیں گے تو لوگوں کے خلاف فیصلہ مکمل ہوجائے گا۔ (ثم لا یؤذن للذین کفروا) ” پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی“ یعنی کفار کو معذرت پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ ان کو اپنے موقف کے بطلان کے معلوم ہونے کے بعد ان کا عذر‘ محض جھوٹا ہوگا‘ جو ان کو کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اگر وہ دنیا میں واپس جانا چاہیں گے تاکہ وہ اپنے گناہوں کی تلافی کرسکیں تو انہیں واپس جانے کی اجازت ملے گی نہ ان سے ناراضی کو دور کیا جائے گا بلکہ جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو ان کو جلدی سے عذاب میں دھکیل دیا جائے گا‘ وہ عذاب جس میں کوئی تخفیف کی جائے گی نہ ان کو کوئی ڈھیل دی جائے گی نہ مہلت‘ کیونکہ ان کے دامن میں کوئی نیکی نہ ہوگی ان کے اعمال کو شمار کر کے ان کے سامنے کیا جائے گا وہ اس کا اقرار کریں گے اور شرمسار ہوں گے۔ (واذا را الذین اشرکوا شرکاء ھم) ” اور جب دیکھیں گے مشرک اپنے شریکوں کو“ یعنی قیامت کے روز جب وہ اپنے خود ساختہ شریکوں کو دیکھیں گے اور ان کا بطلان ان پر واضح ہوجائے گا اور ان کے لئے انکار ممکن نہیں رہے گا۔ (قالوا ربنا ھؤلاء شرکاؤنا الذین کناند عوا من دونک) ” تو کہیں گے‘ اے ہمارے رب ! یہ ہمارے شریک ہیں جن وکق ہم تجھے چھوڑ کر پکارتے تھے۔“ یہ کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ سفارش کرسکتے ہیں۔ وہ خود پکار پکار کر ان خود ساختہ معبودوں کے بطلان کا اعلان کر کے ان کا انکار کریں گے اور ان کے اور ان کے معبودوں کے درمیان عداوت ظاہر ہوجائے گی۔ (فالقوا الیھم القول) ” پس ڈالیں گے وہ ان کی طرف بات“ یعنی ان کے خود ساختہ معبودان کے قول کی تردید کرتے ہوئے کہیں گے : (انکم لکذبون) ” بے شک تم جھوٹے ہو“ کیونکہ تم نے ہمیں اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا اور تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہماری بھی عبادت کیا کرتے تھے۔ پس ہم نے تمہیں عبادت کا حکم دیا تھا نہ ہم نے کبھی الوہیت کے استحقاق کا دعویٰ کیا تھا‘ اس لئے اپنے آپ کو کوسو۔ تب اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے شرک کو تسلیم کرلیں گے اور اس کے فیصلے کے سامنے جھک جائیں گے اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں (وضل عنھم ما کانوا یفترون) ” اور ان سے گم ہوجائیں گے جو جھوٹ وہ باندھتے تھے“ پس وہ جہنم میں داخل ہون گے اور ان کے دل خود اپنے آپ پر غصہ اور اپنے رب کی حمد و ستائش سے لبریز ہوں گے‘ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں انہی بداعمالیوں کی سزا دی ہے جن کا انہون نے ارتکاب کیا۔