سورة البقرة - آیت 188

وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھایا کرو۔ اور نہ حاکموں کے پاس لے جاؤ تاکہ دوسروں کے مال کا کوئی حصہ جانتے بوجھتے ظلم و ستم سے کھاسکو

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

﴿ وَلَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾” اور اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے مت کھاؤ“ کھانے سے مراد لینا ہے اور اپنے مال سے مراد دوسرے لوگوں کا مال ہے۔ دوسروں کے مال کو اپنا مال اس لیے کہا کہ مسلمان کے شایاں یہی ہے کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے اور اپنے بھائی کے مال کا اسی طرح احترام کرے جس طرح وہ اپنے مال کا احترام کرتا ہے۔ دوسرے کے مال کو اپنا مال کہنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ دوسرے کا مال کھائے گا تو دوسرا شخص بھی جب اس کو قدرت حاصل ہوگی، تو اس کا مال کھانے کی جسارت کرے گا۔ (اس لیے کسی دوسرے کا مال کھانا ایسا ہی ہے جیسے وہ اپنا مال کھا رہا ہے) چونکہ مال کھانے کی دو قسمیں ہیں : (١) حق کے ساتھ مال کھانا۔ (2) اور باطل طریقے سے مال کھانا اور حرام صرف باطل طریقے سے مال کھانا ہے اس لیے یہاں اس کو ” باطل“ سے مقید کیا ہے اور اس میں غصب کر کے، چور ی کر کے، امانت میں خیانت کر کے کے اور ادھار لی ہوئی چیز کا انکار کر کے مال کھانا، سب شامل ہے۔ نیز اس میں وہ معاوضہ بھی شامل ہے جو حرام ہے، جیسے سودی لین دین اور ہر قسم کے جوئے سے حاصل شدہ مال، کیونکہ یہ مال کسی جائز معاوضے کے طور پر حاصل نہیں ہوا۔ باطل طریقے سے مال کھانے میں خرید و فروخت اور اجارہ میں دھوکہ اور ملاوٹ کے ذریعے سے حاصل کیا ہوا مال بھی شامل ہے۔ مزدوروں سے کام لینا اور پھر ان کی اجرت کھا جانا بھی باطل طریقے سے مال کھانا ہے۔ اسی طرح ان مزدوروں کا کسی کام کی اجرت لینا اور اس کے عوض پورا کام نہ کرنا بھی حرام کھانا اور باطل ہے۔ ان عبادات اور تقرب الٰہی کے کاموں پر اجرت لینا جو اس وقت تک صحیح نہیں ہوتیں جب تک ان میں صرف رضائے الٰہی مقصود نہ ہو، باطل طریقے ہی سے مال کھانے میں داخل ہے۔ اس حرام کھانے میں ان لوگوں کا زکوٰۃ، صدقات، اوقات اور وصیتوں کا مال کھانا بھی داخل ہے جو اس مال کے مستحق نہیں، یا وہ مستحق تو تھے مگر اپنے حق سے زیادہ مال وصول کیا۔ (مال کھانے کی) مذکورہ بالا اور ان جیسی دیگر تمام اقسام باطل طریقے سے مال کھانے کے زمرے میں داخل ہیں۔ جس کا کھانا کسی بھی پہلو سے جائز نہیں۔ حتی ٰکہ اگر اس میں نزاع واقع ہوجائے اور جھگڑا شرعی عدالت میں چلا جائے اور وہ فریق جو باطل طریقے سے مال کھانا چاہتا ہے کوئی ایسی دلیل پیش کرتا ہے جو اصلی حق دار کی دلیل پر غالب آجاتی ہے اور حاکم اس دلیل کی بنیاد پر اس کے حق میں فیصلہ کردیتا ہے۔ (تو عدالتی فیصلے کے باوجود یہ مال حرام اور باطل ہی رہے گا) اس لیے کہ کسی حاکم کا فیصلہ کسی حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہیں کرسکتا، کیونکہ حاکم تو صرف پیش کردہ دلائل سن کر فیصلہ کرتا ہے ورنہ معاملات کے اصل حقائق تو اپنی جگہ موجود رہتے ہیں، اس لیے باطل طریقے سے مال ہڑپ کرنے والے کے لیے حاکم کے فیصلے میں کوئی خوشی اور اس مال کے باطل ہونے میں کوئی شبہ اور اس کے لیے کوئی راحت نہیں۔ بنابریں جو کوئی جھوٹے ثبوت کے ساتھ کوئی جھوٹا مقدمہ حاکم کی عدالت میں دائر کرتا ہے اور حاکم اس ثبوت کی بنیاد پر اس کے حق میں فیصلہ کردیتا ہے، تو یہ مال اس شخص کے لیے جائز نہیں اور وہ غیر کے مال کو جانتے بوجھتے باطل اور گناہ کے طریقے سے کھانے کا مرتکب ہوگا، اس لیے وہ سخت ترین سزا اور عقوبت کا مستحق ہے۔ اسی بنا پر جب وکیل کو یہ معلوم ہوجائے کہ اس کا موکل اپنے دعوے میں جھوٹا ہے، تو اس کے لیے اس خائن کی وکالت کرنا جائز نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَلَا تَكُن لِّلْخَائِنِينَ خَصِيمًا﴾  (النساء: 105؍4) ” اور خیانت کرنے والوں کی حمایت میں کبھی جھگڑا نہ کرنا۔ “