سورة یوسف - آیت 23

وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الْأَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ ۚ قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ ۖ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور اس عورت نے جس کے گھر میں وہ تھا اسے اس کے نفس سے پھسلا یا اور دروازے بند کرلیے اور کہنے لگی جلدی آؤ۔ اس نے کہا اللہ کی پناہ بے شک وہ میرا مالک ہے اس نے مجھے اچھا ٹھکانہ دیا۔ بلاشبہ حقیقت یہ ہے کہ ظالم فلاح نہیں پاتے۔“ (٢٣)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیات 23 تا 29:۔ یہ عظیم آزمائش اس سے بہت بڑی تھی جو جناب یوسف (علیہ السلام) کو اپنے بھائیوں کی طرف سے پیش آئی اور اس پر ان کا صبر کرنا بہت بڑے اجر کا موجب بنا، کیونکہ اس قبیح فعل کے وقوع کے لیے کثیر اسباب کے باوجود انہوں نے صبر کو اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو ان اسباب پر مقدم رکھا۔ اس لیے ان کا یہ صبر اختیار تھا اور ان کو اپنے بھائیوں کے ہاتھوں جو آزمائش پیش آئی وہاں ان کا صبر اضطراری تھا۔ جیسے مرض اور دیگر تکالیف بندے کے اختیار کے بغیر اسے لاحق ہوتی ہیں جن میں طوعاً یا کرہاً صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں اور آزمائش کا یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کے گھر میں نہایت عزت و اکرام کے ساتھ رہ رہے تھے۔ وہ کام حسن و جمال اور مردانہ وجاہت کے حامل تھے اور یہی چیز ان کی آزمائش کا موجب بنی۔ وَرَاوَدَتْہُ الَّتِیْ ہُوَ فِیْ بَیْتِہَا عَنْ نَّفْسِہٖ: تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ یعنی یوسف (علیہ السلام) جس عورت کے غلام اور اس کے زیر دست تھے اس نے ان پر ڈورے ڈالنے شروع کردئیے۔ وہ ایک ہی گھر میں رہتے تھے جہاں کسی شعور اور احساس کے بغیر اس مکروہ فعل کے مواقع میسر تھے اور اس سے بھی بڑھ کر مصیبت یہ نازل ہوئی کہ وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ : اس نے دروازے بند کردئیے۔ اور مکان خالی ہوگیا اور دروازوں کو بند کردینے کی بنا پر کسی کے وہاں آنے کا ڈڑ نہ رہا۔ اس عورت نے جناب یوسف کو اپنے ساتھ بدکاری کی دعوت دی۔ وَقَالَتْ ہَیْتَ لَکَ : کہنے لگی، جلدی آؤ۔ یعنی میرے پاس آؤ اور میرے ساتھ یہ فعل بد سر انجام دو۔ اس کے باوجود کہ یوسف (علیہ السلام) ایک غریب الوطن شخص تھے اور ایسا شخص اس طرح اپنے غصے اور ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کرسکتا جس طرح وہ اپنے وطن میں جان پہچان کے درمیان ناپسندیدگی کا اظہار کرتا ہے اور وہ اس عورت کے اسیر تھے اور وہ عورت ان کی آقا تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس عورت میں حسن و جمال تھا۔ یوسف (علیہ السلام) خود جوان اور غیر شادی شدہ تھے اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ عورت دھمکی دے رہی تھی کہ اگر یوسف (علیہ السلام) نے اس کی خواہش پوری نہ کی تو وہ انہیں قید خانے میں بھجوادے گی یا انہیں دردناک عذاب میں مبتلا کردے گی۔ مگر بایں ہمہ، جناب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے اندر اس فعل کا قوی داعیہ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے رکے رہے، کیونکہ جس فعل کا ارادہ انہوں نے کرلیا تھا اسے اللہ تعالیٰ کی خاطر ترک کردیا اور اللہ تعالیٰ کی مراد کو اپنے نفس کی مراد پر مقدم رکھا جو ہمیشہ برائی کا حکم دیتا ہے۔ انہیں اپنے رب کی برہان نظر آئی، یعنی ان کے پاس جو علم و ایمان تھا وہ اس بات کا موجب تھا کہ وہ ہر اس چیز کو ترک کردیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے یہ برہان حق ان کو اس بڑے گناہ سے دور رکھنے کی باعث تھی۔ قَالَ مَعَاذَ اللّٰہِ : انہوں نے کہا، اللہ کی پناہ۔ یعنی میں اس انتہائی قبیح فعل کے ارتکاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ کیونکہ یہ ایسا فعل ہے جس پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہوتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اپنے سے دور کردیتا ہے، نیز یہ فعل اپنے آقا کے حق میں خیانت ہے جس نے مجھے عزت و تکریم سے نوازا۔ پس مجھے یہ ہرگز زیب نہیں دیتا کہہ میں اس کی بیوی کے ساتھ اس بدترین فعل کے ذریعے سے اس کے احسانات کا بدلہ دوں۔ یہ تو سب سے بڑا ظلم ہے اور ظلم کبھی فلاح نہیں پاتا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے اس قبیح فعل سے جن امور کو موانع قرار دی اوہ تھے تقوائے الٰہی، اپنے آقا کے حق کی رعایت جس نے ان کو عزت و اکرام سے نوازا تھا اور اپنے آپ کو ظلم کرنے سے بچانا جس کا مرتکب کبھی فلاح نہیں پاتا۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جناب یوسف (علیہ السلام) کو ایمان کی برہان حق سے نوازا جو ان کے قلب میں جازیں تھا جو ان سے اوامر الٰہی کی اطاعت اور نواہی سے اجتناب کا تقاضا کرتا تھا۔ اس پورے معاملے میں جامع بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) سے بدی اور بے حیائی کو دور کردیا تھا، کیونکہ وہ ان بندوں میں سے تھے جو اپنی عبادات میں اخلاص سے کام لیتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور اپنے لیے خاص کرلی اور ان پر اپنی نعمتوں کی بارش کردی اور تمام ناپسندیدہ امور کو ان سے دور کدیا۔ بنا بریں وہ اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق میں سے تھے۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) اس عورت کی طرف سے بدی کی سخت ترغیب کے باوجود اس کی خواہش پوری کرنے سے ممتنع رہے اور وہ اس عورت سے اپنے آپ کو چھڑا کر دروازے کی طرف تیزی سے بھاگے، تاکہ وہ بھاگ کر اس فتنہ سے بچ کر نکل جائیں تو وہ عورت بھی ان کے پیچھے بھاگی اور پیچھے سے ان کی قمیص کا دامن پکڑ لیا اور ان کی قمیص پھاڑ ڈالی۔ جب وہ دنوں اس حالت میں دروازے پر پہنچے تو انہوں نے دروازے پر عورت کے خاوند کو موجود پایا اس نے یہ معاملہ دیکھا تو اسے سخت شاق گزرا۔ اس عورت نے فوراً جھوٹ گھڑ لیا اور دعوی کیا کہ یوسف اس کے ساتھ زیادتی کرنا چاہتا تھا اور کہنے لگی قَالَتْ مَا جَزَاۗءُ مَنْ اَرَادَ بِاَہْلِکَ سُوْۗءًا : اس شخص کی کیا سزا ہے جو تیری بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے، اور یہ نہیں کہا، من فعل باھلک سوءا۔ جس نے تیری بیوی کے ساتھ برائی کی۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو اور یوسف (علیہ السلام) کو اس فعل سے بری ظاہر کرنا چاہتی تھی۔ تمام نزاع تو صرف برائی کے ارادے اور ڈورے ڈالنے کے بارے میں تھا۔ اِلَّآ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ : مگر یہی کہ اسے جیل میں ڈال دیا جائے یا اسے دردناک سزا دی جائے۔ یوسف (علیہ السلام) نے اس الزام سے، جو اس عورت نے لگایا تھا، اپنے آپ کو بری کرتے ہوئے کہا ہِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ : اسی نے مجھ کو مائل کرنا چاہا تھا۔ اس صورت حال میں دونوں کی صداقت کا احتمال تھا مگر یہ معلوم نہیں کیا جاسکتا تھا کہ دونوں میں سے کون سچا ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حق اور صداقت کی کچھ علامات اور نشانیاں مقرر فرمائی ہیں۔ جو حق کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں جنہیں بسا اوقات بندے جانتے ہیں اور بسا اوقات نہیں جانتے، چنانچہ اس قضیہ میں اللہ تعالیٰ نے سچے کی پہچان سے نوازا، تاکہ اس کے نبی اور چنیدہ بندے، جناب یوسف (علیہ السلام) کی براءت کا اظہار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے گھر والوں میں سے ایک شاہد کو کھڑا کردیا اور اس نے قرینے کی گواہی دی کہ جس کے پاس یہ قرینہ موجود ہوگا وہی سچا ہے۔ اس گواہ نے کہا اِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَہُوَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ : اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹا ہوا ہے تو وہ عورت سچی ہے اور وہ جھوٹا ہے، کیونکہ یہ صورت حال دلالت کرتی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) ہی بڑھ کر اس عورت پر ہاتھ ڈالنے والے، اس کو پھسلانے والے اور زور آزمائی کرنے والے تھے اور وہ عورت تو بس اپنی مدافعت کر رہی تھی اور اس نے اپنی مدافعت کی حالت میں اس جانب سے یوسف کا کرتہ پھاڑ ڈالا۔ وَاِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَہُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ : اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے، تو وہ عورت جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے، کیونکہ یہ صورت حال جناب یوسف (علیہ السلام) کے اپنے آپ کو چھڑا کر بھاگنے پر دلالت کرتی ہے اور یہ کہ یہ عورت ہی ہے جس نے یوسف (علیہ السلام) پر ڈورے ڈالنے چاہے اور اس طرح کرتہ اس جانب سے پھٹ گیا۔ فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَہٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ : پس جب عزیزی مصر نے ان کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا۔ تو اسے جناب یوسف (علیہ السلام) کی صداقت اور ان کی براءت کا یقین ہوگیا۔ نیز یہ کہ عورت جھوٹی ہے، تو عورت کے شوہر نے اس سے کہا، اِنَّہٗ مِنْ کَیْدِکُنَّ ۭ اِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیْمٌ : یہ ایک فریب ہے تم عورتوں کا، یقینا تمہارا فریب بڑا ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی اور فریب ہوسکتا ہے کہ اس عورت نے بدی کا ارادہ کیا، اس کا ارتکاب کرنے کی کوشش کی پھر اپنے آپ کو بری قرار دے کر اپنا کرتوت اللہ تعالیٰ کے نبی جناب یوسف کے سر تھوپ دیا۔ جب اس عورت کے شوہر کے سامنے سارا معاملہ متحقق ہوگیا تو اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا : یوسف ! جانے دو اس ذکر کو۔ یعنی اس واقعہ کے بارے میں کوئی بات نہ کرو، اسے بھول جاؤ اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرو۔ وہ اپنی بیوی کے فعل پر پردہ ڈالنا چاہتا تھا۔ وَاسْتَغْفِرِیْ : اے عورت ! بخشش مانگ۔ لِذَنْۢبِکِ ښ اِنَّکِ کُنْتِ مِنَ الْخٰطِــِٕیْنَ: اپنے گناہ پر، بے شک تو ہی گناہ گار تھی : اس شخص نے یوسف (علیہ السلام) کو اس تمام معاملے کو نظر انداز کرنے کی درخواست کی اور اس عورت کو توبہ و استغفار کا حکم دیا۔