سورة ھود - آیت 49

تِلْكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ ۖ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَا أَنتَ وَلَا قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَٰذَا ۖ فَاصْبِرْ ۖ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔ اس سے پہلے نہ آپ جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم پس صبر کرو یقیناً متقی لوگوں کا انجام بہتر ہے۔“ (٤٩)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد۔۔۔۔۔۔ جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے۔۔۔ اپنے نبی محمد مصطفی ( علیہ السلام) سے فرمایا : (تلک من انباء الغیب نوحیھا الیک ما کنت تعلمھا انت ولا قومک من قبل ھذا ) ” یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے“ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ (ان العاقبۃ للمتقین) ” بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے۔“ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوح (علیہ السلام) کی قوم کے مقابلے میں نوح (علیہ السلام) کا انجام اچھا تھا۔