سورة ھود - آیت 8

وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَىٰ أُمَّةٍ مَّعْدُودَةٍ لَّيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُ ۗ أَلَا يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور بلا شبہ اگر ہم ان سے عذاب کو ایک متعین مدت تک موخر کردیں تو ضرور کہیں گے اسے کون سی چیز روک رہی ہے؟ خبردار! جس دن عذاب ان پر آئے گا تو ان سے کسی طرح ہٹایا جانے والا نہیں اور انہیں عذاب گھیر لے گا جس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔“ (٨)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(ولئن اخرنا عنھم العذاب الی امۃ معدودۃ) ” اگر ہم روکے رکھیں ان سے عذاب ایک معلوم مدت تک“ یعنی ایک وقت مقررہ تک، جس کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دن بہت دیر سے آے گا، تب وہ ظلم و جہالت کی بنا پر کہتے ہیں : (مایحبسہ) ” کون سی چیز اس (عذاب) کو روکے ہوئے ہے؟“ اس آیت کا مضمون ان کا رسول کو جھٹلانا ہے۔ وہ ان پر عذاب کے فوری طور پر نہ آنے کو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جھوٹا ہونے پر دلیل بناتے ہیں جنہوں نے ان کو عذاب واقع ہونے کی وعید سنائی ہے۔ پس یہ کتنا بعید استدلال ہے ! (الا یوم یاتیھم لیس مصروفاً عنھم) ” دیکھو جس روز عذاب ان پر نازل ہوگا تو پھر ٹلے گا نہیں“ کہ وہ اپنے معاملے میں غور کرسکیں (وحاق بھم) ” اور ان کو گھیر لے گا“ یعنی نازل ہوگا ان پر (ماکانو بہ یستھزون) ” وہ (عذاب) جس کے ساتھ یہ استہزا کیا کرتے تھے۔“ کیونکہ وہ اسے نہایت حقیر سمجھتے تھے حتیٰ کہ جو ان کو عذاب کی وعید سناتا تھا وہ قطعی طور پر اسے جھو ٹاسمجھتے تھے۔