سورة یونس - آیت 50

قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُهُ بَيَاتًا أَوْ نَهَارًا مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” فرما دیں تم بتلاؤ اگر تم پر اس کا عذاب رات یا دن کو آجائے تو مجرم اس میں سے کون سی چیز جلدی طلب کریں گے۔“ (٥٠) ”

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت : (50-52) (قل ارئیتم ان اتکم عذابہ بیاتا) ” کہہ دیجئے ! بتلاؤ‘ اگر تمہارے پاس اس کا عذاب آجائے راتوں رات۔“ یعنی رات کے وقت سوتے میں۔ (اونھارا) ” یا دن کو“ یعنی تمہاری غفلت کے وقت (ماذا یستعجل منہ المجرمون) ” و وہ کیا چیز ہے جس کے لئے مجرمین جلدی کا مطالبہ کر رہے ہیں؟“ یعنی وہ کون سی بشارت ہے‘ جس کے لئے یہ جلدی مچا رہے ہیں اور کون سا عذاب ہے‘ جس کی طرف یہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں؟ (اثم اذا ما وقع امنتم بہ) ” کیا پھر جب وہ عذاب واقع ہوچکے گا‘ تب اس پر تم ایمان لاؤ گے؟“ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا تو اس وقت ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دے گا اور اس ھال میں جب کہ وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ وہ ایمان لے آئیں ہیں‘ عتاب اور زجرو توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا : (الئن) ” اب“ یعنی اب تم اس شدت اور سخت مشقت کی حالت میں ایمان لاتے ہو؟ (وقد کنتم بہ تستعجلون) ” تم تو اس عذاب کے لئے بہت جلدی مچایا کرتے تھے۔“ اپنے بندوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وقوع عذاب سے قبل اگر وہ اسے منانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان سے اپنی ناراضی کو دور کردیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کا عذاب واقع ہوجاتا ہے‘ تو کسی نفس کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دیتا‘ جیسا کہ فرعون کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب وہ ڈوبنے لگا‘ تو اس نے کہا : (امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ نبوا اسرائیل وانا من المسلمین) (یونس : 90/10) ” میں ایمان لایا کہ اس ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں بھی اس کے سامنے سراطاعت خم کردینے والوں میں سے ہوں۔“ تو اس کو جواب دیا گیا : (الئن وقد عصیت قبل و کنت من المفسدین) (یونس : 91/10) ” اب ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا ہے اور فساد کرنے ولوں میں سے تھا۔“ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (فلکم یک ینفعھم ایمانھم لما راؤا باسنا سنت اللہ التی قد خلت فی عبادہ) (المومن : 85/40) ” پس جب وہ ہمارا عذاب دکھ لیں گے تو اس وقت ان کا ایمان لانا ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ یہ سنت الٰہی ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہیں۔ “ اور یہاں فرمایا : (اثم اذا ما وقع امنتم بہ الئن) ” کیا جب وہ واقع ہوگا تب اس پر ایمان لاؤ گے؟ (تو کہا جائے گا) اب تم“ (ایمان کا دعویٰ کرتے ہو؟) (وقد کنتم بہ تستعجلون) ” اسی کے لئے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے۔“ یہ ہے تمہارے ہاتھوں کی کمائی اور یہ ہے وہ‘ جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے۔ (ثم قیل للذین ظلموا) ” پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا“ جب قیامت کے روز ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا (ذوقوا عذاب الخلد) ” چکھو عذاب ہمیشگی کا“ یعنی وہ عذاب جس میں تم ہمیشہ رہو گے‘ یہ عذاب تم سے ایک گھڑی کے لئے دور نہ ہوگا (ھل تجزون الا بما کنتم یکسبون) ” اسی چیز کا بدلہ تمہیں دیا جا رہا ہے جو تم کماتے تھے“ یعنی کفر‘ تکذیب رسالت اور معاصی کی تمہیں جزا دی جا رہی ہے۔