سورة التوبہ - آیت 8

كَيْفَ وَإِن يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً ۚ يُرْضُونَكُم بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبَىٰ قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” کیسے ممکن ہے وہ اگر تم پر غالب آجائیں تو تمہارے بارے میں نہ کسی قرابت اور نہ کسی عہدکالحاظ کریں گے تمہیں اپنی زبانوں سے خوش کرتے ہیں اور ان کے دل نہیں مانتے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ (٨)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 8 (کیف) ” کیسے“ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں مشرکین کے لئے کیسے عہد و میثاق ہوسکتا ہے۔ (وان یظھروا علیکم) ” کہ اگر وہ تم پر غلبہ پا لیں‘ ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر ان کو تم پر قدرت اور غلبہ حاصل ہو تو تم پر کوئی نہیں کریں گے۔ : (آیت) ” تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا۔“ یعنی وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں رکھیں گے، وہ تمہارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈریں گے، بلکہ وہ تمہیں بدترین عذاب دیں گے۔ اگر وہ غالب آجائیں تو ان کا تمہارے ساتھ یہ حال ہوگا لیکن اگر وہ تم سے ڈر کر تمہارے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو تمہیں ان کے بارے میں دھوکے میں نہیں آنا چاہئے، کیونکہ (یرضونکم باقواھھم وتابی قلوبھم) ” وہ اپنے منہ سے تمہیں خوش کردیتے ہیں اور ان کے دل تمہاری طرف میلان اور محبت سے انکار کرتے ہیں“ بلکہ وہ تمہارے حقیقی دشمن ہیں اور تمہارے ساتھ دلی بغض رکھتے ہیں۔ (واکثر ھم فسقون) ” اور ان کے اکثر بد عہد ہیں۔“ ان میں کوئی دیانت اور مروت نہیں۔ : (آیت) ” یہ اللہ کی آیات کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے ہیں۔“ یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور اللہ تاعلیٰ کی آیات پر عمل کرنے کی بجائے اس دنیا میں جلدی حاصل ہونے والے حسیس عوض کو اختیار کرلیا۔ (فصدوا عن سبیلہ) انہوں نے خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا۔ (انھم سآء ماکانوا یعلمون) ” بلاشبہ بہت ہی برے کام ہیں جو یہ کرتے ہیں۔ “: (آیت) ” وہ کسی حرمت کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔“ یعنی ایمان اور اہل ایمان سے عداوت کی بنا پر وہ کسی عہد اور قرأت کا لحاظ نہیں کرتے۔ وہ وصف جس کی بنا پر وہ تم سے عداوت اور بغض رکھتے ہیں۔ وہ ایمان ہے، اس لئے اپنے دین کا دفاع کرو اور اس کی مدد کرو اور جو کوئی متہارے دین سے عداوت رکھتا ہے اسے اپنا دشمن سمجھو اور جو تمہارے دین کی مدد کرتا ہے اسے اپنا دوست سمجھو۔ دوستی کے وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے دین کو حکم کا مدار بناؤ۔ طبیعت کو دوستی اور دشمین کا معیار نہ بناؤ کہ جدھر خواہش کا میلان ہو تم بھی ادھر جھک جاؤ اور اس بارے میں اس نفس کی پیروی کرو جو برائی کا حکم دیتا ہے۔ اس لئے فرمایا : (فان تابوا) ” اگر وہ توبہ کرلیں“ یعنی اگر وہ اپنے شرک سے توبہ کر کے ایمان کی طرف لوٹ آئیں : (آیت) ” اور نماز قائم کریں، زکوۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں“ اور اس عداوت کو فراموش کر دو جب وہ مشرک تھے، تاکہ تم سب اللہ کے مخلص بندے بن جاؤ اور اس طرح بندہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بن جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم احکام کو بیان فرمایا ان میں سے کچھ احکام کی توضیح فرمائی، کچھ حکمتوں اور فیصلوں کو بیان کیا، تو فرمایا : (ونقصل الایت) ” ہم آیات کو واضح اور ممیز کرتے ہیں۔ (لقوم یعلمون) ” جاننے والے لوگوں کے واسطے“ پس سیاق کلام انہی کی طرف ہے، انہی کے ذریعے سے آیات و احاکم کا علم حاصل ہوتا ہے انہی کے ذریعے سے دین اسلام اور شریعت کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اے اللہ ! اے رب العالمین ! اپنی رحمت، اپنے جود و کرم اور اپنے احسان سے، ہمیں ایسے لوگوں میں شامل کر جو علم رکھتے ہیں اور ان باتوں پر عمل کرتے ہیں جن کا ان کو علم ہے۔