سورة الاعراف - آیت 43

وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ ۖ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ ۖ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ۖ وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ان کے سینوں میں جو بھی کینہ ہوگا ہم نکال دیں گے ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ کہیں گے سب تعریفیں اللہ کی ہیں۔ جس نے ہمیں اس کی ہدایت دی اور ہم کبھی نہ تھے کہ ہدایت پاتے، اگر ہمیں اللہ ہدایت نہ دیتا، بلاشبہ ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے اور انہیں آواز دی جائے گی کہ یہی وہ جنت ہے جس کے وارث تم بنائے گئے ہو اپنے اعمال کے بدلے۔“ (٤٣)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 43 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نافرمان ظالموں کو دیئے جانے والے عذاب کا ذکر فرمایا، تب اس نے اہل اطاعت بندوں کے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (والذی امنوا) ” اور جو لوگ ایمان لائے۔“ یعنی جو دل سے ایمان لائے (وعملوا الصلحت) ” اور عمل نیک کرتے رہے۔“ یعنی اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے۔ پس اس طرح وہ ایمان و عمل، اعمال ظاہرہ اور اعمال باطنہ کو جمع کرتے ہیں اور بیک وقت فعل واجب اور ترک محرمات پر عمل کرتے ہیں۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد (وعملوا الصلحت) ایک عام لفظ ہے جو واجب اور مستحب تمام نیکیوں کو شامل ہے، اور بسا اوقات بعض نیکیاں بندے کی مقدرت سے باہر ہوتی ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (لانکلف نفساً الاوسعھا) ” ہم ہر نفس کو اس کی طاقت کے مطابق مکلف کرتے ہیں“ اور اس کی مقدرت سے بڑھ کر اس پر بوجھ نہیں ڈالتے۔ لہٰذا اس حال میں اس پر فرض ہے کہ وہ استطاعت بھر اللہ تعالیٰ سے ڈرے اگر بعض فرائض و واجبات کی تعمیل سے عاجز ہو اور ان کو بجا لانے پر قادر نہ ہو تو یہ فرائض اس پر سے ساقط ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا“ یعنی اللہ تعالیٰ کسی شخص پر صرف وہی چیز فرض کرتا ہے جسے سر انجام دینے کی وہ طاقت رکھتا ہے۔ فرمایا : (لایکلف اللہ نفساً الا مآ اتھا) (الطلاق :8/65) ” اللہ کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتا مگر صرف اسی کے مطابق جو اس کو عطا کیا ہے“ فرمایا : (وما جعل علیکم فی الدین من حرج) (الحج :28/22) ” اور (اللہ تعالیٰ نے) تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔“ فرمایا : (فاتقوا اللہ ما استطعتم) ” التغابن :16/63) ” پس جہاں تک طاقت ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔“ پس معلوم ہوا کہ عاجز ہونے کی صورت میں واجب کی ادائیگی لازم نہیں اور نہ اضطراری صورتحال میں محرمات سے اجتناب واجب رہتا ہے۔ اولئک) ” ایسے ہی لوگ“ یعنی ایمان اور عمل صالح سے متصف لوگ (اصحب الجنۃ ھم فیھا خلدون) ” اہل بہشت ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے۔“ یعنی انہیں جنت سے نکالا نہیں جائے گا اور نہ وہ خود جنت کے بدلے کوئی اور چیز چاہیں گے، کیونکہ انہیں جنت میں انواع و اقسام کی لذتیں حاصل ہوں گی، تمام خواہشات پوری ہوں گی، انہیں کوئی روک ٹوک نہ ہوگی اور اس سے بلند تر کسی مقام کی طلب نہ ہوگی۔ (ونزعنا ما فی صدورھم من عل) ” اور نکال لیں گے ہم جو کچھ ان کے دلوں میں خفگی ہوگی“ یہ اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور احسان ہوگا کہ دنیا میں ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کینہ اور بغض اور ایک دوسرے سے مقابلے کی جو رغبت موجود تھی، اللہ تعالیٰ اس کو زائل اور ختم کر دے گا یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرنے والے بھائی اور باصفا دوست ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) اور ان کے دلوں میں جو کینہ اور کدورت ہوگی ہم اسے نکال دیں گے اور وہ بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔“ اللہ تعالیٰ ان کو اکرام و تکریم عطا کرے گا جس پر ہر ایک کو خوشی اور مسرت ہوگی اور ہر ایک یہی سمجھے گا کہ جو نعمتیں اسے عطا ہوئی ہیں ان سے بڑھ کر کوئی اور نعمت نہیں اس لئے وہ حسد اور بغض سے محفوظ ومامون رہیں گے، کیونکہ حسد اور بغض کے تمام اسباب منقطع ہوجائیں گے۔ (تجری من تحتھم الانھر) ” بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں“ یعنی وہ جب چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے نہریں نکال لیں گے۔ اگر وہ نہریں اپنے محلات میں لے جانا چاہیں یا اپنے بلند و بالا خانوں میں یا پھولوں سے سجے ہوئے باغات کی روشوں میں لے جانا چاہیں تو لے جائیں گے۔ یہ ایسی نہریں ہوں گی جن میں گڑھے نہیں ہوں گے اور بھلائیاں ہوں گ جن کی کوئی حد نہ ہوگی۔ (و) ” اور“ اس لئے جب وہ اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کو دیکھیں گے (آیت) کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں یہاں کا راستہ دکھایا۔“ یعنی وہ پکار اٹھیں گے ہر قسم کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے ہم پر احسان فرمایا، ہمارے دلوں میں الہام فرمایا اور اس پر ایمان لے آئے اور ایسے اعمال کئے جو نعمتوں کے اس گھر تک پہنچاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ایمان و اعمال کی حفاظت کی حتی کہ اس نے ہمیں اس جنت میں داخل کردیا۔ بہت ہی اچھا ہے وہ رب کریم جس نے ہمیں نعمتیں عطا کیں، ظاہری اور باطنی اتنی نعمتوں سے نوازا کہ کوئی ان کو شمار نہیں کرسکتا۔ (آیت) اور اگر اللہ ہم کو راستہ نہ دکھاتا تو ہم راستہ نہ پاسکتے۔“ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اپنی ہدایت اور اتباع رسل سے نہ نوازا ہوتا تو ہمارے نفوس میں ہدایت کو قبول کرنے کی قابلیت نہ تھی۔ (لقد جآءت رسل ربنا بالحق) ” یقیناً لائے تھے ہمارے رب کے رسول سچی بات“ یعنی جب وہ ان نعمتوں سے متمتع ہو رہے ہوں گے جن کے بارے میں انبیاء و مرسلین نے خبر دی تھی اور یہ خبر ان کے لئے علم الیقین کے بعد حق الیقین بن گئی۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے یہ بات متحقق ہوگئی اور ہم نے ہر وہ چیز دیکھ لی ہے جس کا انبیا و رسل نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا اور یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ وہ سب کچھ حق الیقین ہے جو انبیاء و مرسلین لے کر مبعوث ہوئے۔ جس میں کوئی شک و شبہ اور کوئی اشکال نہیں۔ (ونودوآ) ” اور منا دی کردی جائے گی۔“ تہنیت و اکرام اور سلام و احترام کے طور پر انہیں پکارا جائے گا (ان تلکم الجنۃ اور ثتموھا) ” یہ جنت ہے، وارث ہوئے تم اس کے“ یعنی تم اس کے وارث ہو اور یہ تمہاری جاگیر ہے، جب کہ جہنم کافروں کی جاگیر ہوگی۔ (بما کنتم تعملون) ” اپنے اعمال کے بدلے میں“ سلف میں سے کسی نے فرمایا ہے کہ اہل جنت اللہ تعالیٰ کے عفو کی وجہ سے جہنم سے نجات پائیں گے، اس کی رحمت کی بنا پر جنت میں داخل ہوں گے اور اپنے اعمال کے بدلے اس کے وارث بنیں گے اور اس کی منازل کو باہم تقسیم کریں گے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے، بلکہ اس کی رحمت کی بلند ترین نوع ہے۔