سورة الاعراف - آیت 21

وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور اس نے دونوں سے قسم کھا کر کہا کہ بے شک میں تم دونوں کے لیے بلاشبہ خیرخواہوں میں سے ہوں۔“ (٢١)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢١۔ ١ جنت کی جو نعمتیں اور آسائشیں حضرت آدم (علیہ السلام) و حوا کو حاصل تھیں، اس کے حوالے سے شیطان نے دونوں کو بہلایا اور یہ جھوٹ بولا کہ اللہ تمہیں ہمیشہ جنت میں رکھنا نہیں چاہتا، اس لئے اس درخت کا پھل کھانے سے منع فرمایا ہے کیونکہ اس کی تاثیر ہی یہ ہے جو اسے کھا لیتا ہے، وہ فرشتہ بن جاتا ہے یا دائمی زندگی اسے حاصل ہوجاتی ہے۔ پھر قسم کھا کر اپنا خیر خواہ ہونا بھی ظاہر کیا، جس سے حضرت آدم (علیہ السلام) و حوا متاثر ہوگئے اس لئے اللہ والے اللہ کے نام پر آسانی سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔