سورة الانعام - آیت 107

وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكُوا ۗ وَمَا جَعَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ۖ وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور اگر اللہ چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے اور ہم نے آپ کو ان پر نگران نہیں بنایا اور نہ آپ ان کے وکیل ہیں۔“ (١٠٧)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٠٧۔ ١ اس نکتے کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے کہ اللہ کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی رضا تو اسی میں ہے کہ اس کے ساتھ شرک نہ کیا جائے۔ تاہم اس نے اس پر انسانوں کو مجبور نہیں کیا کیونکہ جبر کی صورت میں انسان کی آزمائش نہ ہوتی، ورنہ اللہ تعالیٰ کے پاس تو ایسے اختیارات ہیں کہ وہ چاہے تو کوئی انسان شرک کرنے پر قادر ہی نہ ہو سکے (مزید دیکھئے سورۃ بقرہ آیت ٢٥٣ اور سورۃ الانعام آیت ٣٥ کا حاشیہ)۔ ١٠٧۔ ٢ یہ مضمون بھی قرآن مجید میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے مقصد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داعیانہ اور مبلغانہ حیثیت کی وضاحت ہے جو منصب رسالت کا تقاضا ہے اور آپ صرف اسی حد تک مکلف تھے اس سے زیادہ آپ کے پاس اگر اختیارات ہوتے تو آپ اپنے محسن چچا ابو طالب کو ضرور مسلمان کرلیتے جن کے قبول اسلام کی آپ شدید خواہش رکھتے تھے