سورة الانعام - آیت 81

وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا ۚ فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالْأَمْنِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور میں ان سے کیسے ڈروں جنھیں تم نے شریک بنایا ہے، حالانکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ ان کو شریک بنایا ہے جس کی کوئی دلیل اللہ نے تم پر نہیں اتاری۔ دونوں گروہوں میں سے امن کا زیادہ حق دار کون ہے اگر تم جانتے ہو؟“ (٨١)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٨١۔ ١ یعنی مومن اور مشرک میں سے؟ مومن کے پاس تو توحید کے بھرپور دلائل ہیں، جب کہ مشرک کے پاس اللہ کی اتاری ہوئی کوئی دلیل نہیں، صرف اوہام باطلہ ہیں یا دور ازکار تاویلات اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ امن اور نجات کا مستحق کون ہوگا۔