سورة المآئدہ - آیت 50

أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں ؟ اور اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والاکون ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں۔“ (٥٠)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٥٠۔ ١ اب قرآن اور اسلام کے سوا، سب جاہلیت ہے، کیا یہ اب بھی روشنی اور ہدایت (اسلام) کو چھوڑ کر جاہلیت ہی کے متلاشی اور اور طالب ہیں؟ یہ استفہام، انکار اور توبیخ کے لئے ہے اور ' فا ' لفظ مقدر پر عطف ہے اور معنی ہیں ( یعرضون من حکمک بما انزل اللہ علیک ویتولون عنہ، یبتغون حکم الجاہلیۃ) تیرے اس فیصلے سے جو اللہ نے تجھ پر نازل کیا ہے یہ اعراض کرتے اور پیٹھ پھیرتے ہیں اور جاہلیت کے طریقوں کے متلاشی ہیں (فتح القدیر) ٥٠۔ ٢ حدیث میں آتا ہے نبی نے فرمایا 'اللہ کہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو اسلام میں جاہلیت کے طریقے کا متلاشی ہو اور ناحق کسی کا خون بہانے کا طالب ہو۔