سورة النسآء - آیت 140

وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور اللہ تعالیٰ تمہاری طرف یہ حکم اتار چکا ہے جب تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کرتے اور مذاق اڑاتے ہوئے سنو تو ان کے ساتھ نہ بیٹھو۔ جب تک وہ اس کے علاوہ اور باتیں نہ کرنے لگیں ورنہ تم بھی ان جیسے ہوگے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ کافروں اور منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٤٠۔ ١ یعنی منع کرنے کے باوجود اگر تم ایسی مجلسوں میں جہاں آیات الٰہی کا استہزاء کیا جاتا ہو بیٹھو گے اور اس پر نکیر نہیں کرو گے تو پھر تم بھی گناہ میں ان کے برابر ہوگئے۔ جیسے ایک حدیث میں آتا ہے ' جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اس دعوت میں شریک نہ ہو جس میں شراب کا دور چلے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسی مجلسوں اور اجتماعات میں شریک ہونا، جن میں اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کا قولاً یا عملاً مذاق اڑایا جاتا ہو جیسے آجکل کے امراء، فیشن ایبل اور مغرب زدہ حلقوں میں بالعموم ایسا ہوتا ہے، سخت گناہ ہے (اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ ۭ) 004:140 کی وعید قرآنی اہل ایمان کے اندر کپکپی طاری کردینے کے لئے کافی ہے بشرطیکہ دل کے اندر ایمان ہو۔