سورة الفلق - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

* اس کے سورۃ الناس ہے، ان دونوں کی مشترکہ فضیلت متعدد احاچیث میں بیان کی گئی ہے۔ مثلا ایک حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا"آج کی رات مجھ پر کچھ ایسی آیات نازل ہوئی ہیں جن کی مثل میں نے کبھی نہیں دیکھی"یہ فرما کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دونوں سورتیں پڑھیں (صحیح مسلم) ابو حابس جہنی (رض) سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا"اے ابو حابس! کیا میں تمہیں سب سے بہترین تعویذ نہ بتاؤں جس کے ذریعے سے پناہ طلب کرنے والے پناہ مانگتے ہیں انہیں نے عرض کیا، ہاں ضرور بتلایئے! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں سورتوں کا ذکر کر کے فرمایا یہ دونوں معوذتان ہیں"(صحیح النسائی) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انسانوں اور جنوں کی نظر سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب یہ دونوں سورتیں نازل لوئیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے پڑھنے کو معمول بنا لیا اور باقی دوسری چیزیں چھوڑ دیں (صحیح الترمذی) حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی تکلیف ہوتی تو معوذتین (قل اعوذ برب الفلق) اور (قل اعوذ برب الناس) پڑھ کر اپنے جسم پر پھونک لیتے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکلیف زیادہ ہوگئی تو میں یہ سورتیں پڑھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھوں کو برکت کی امید سے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جسم پر پھیرتی (بخاری) جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیا گیا تو جبرائیل (علیہ السلام) یہی دو سورتیں لے کر حاضر ہوئے اور فرمایا کہ ایک یہودی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیا ہے، اور یہ جادو فلاں کنویں میں ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی رضی اللہ کو بھیج کر اسے منگوایا، (یہ ایک کنگھی کے دندانوں اور بالوں کے ساتھ ایک دانتوں کے اندر گیا گرہیں پڑی ہوئی تھیں اور موم کا ایک پتلا تھا جس میں سوئیاں چبھوئی ہوئی تھیں) جبرائیل (علیہ السلام) کے حکم مطابق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان دونوں سورتوں میں سے ایک ایک آٰیت پڑھتے جاتے اور گرہ کھلتی جاتی اور سوئی نکلتی جاتی خاتمے تک پہنچتے پہنچتے ساری گرہیں بھی کھل گئیں اور سوئیاں بھی نکل گئیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح صحیح ہوگئے جیسے کوئی شخص جکڑ بندی سے آزاد ہوجائے (صحیح) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ معمول بھی تھا کہ رات کو سوتے وقت سورۃ اخلاص اور معوذتین پڑھ کر اپنی ہتھیلیوں پر پھونکتے اور پھر انہیں پورے جسم پر ملتے، پہلے سر، چہرے اور جسم کے اگلے حصے پر ہاتھ پھیرتے، اس کے بعد جہاں تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پہنچتے تین مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسا کرتے۔ (صحیح بخاری)