سورة البينة - آیت 1

لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّىٰ تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے وہ باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس روشن دلیل نہ آ جائے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١۔ ١ اس سے مراد یہود ونصاری ہیں، ١۔ ٢ مشرک سے مراد عرب و عجم کے وہ لوگ ہیں جو بتوں اور آگ کے پجاری تھے۔ منفکّین باز آنے والے، بیّنۃ (دلیل) سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ یعنی یہود و نصاریٰ اور عرب وعجم کے مشرکین اپنے کفر و شرک سے باز آنے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن لے کر آ جائیں اور وہ ان کی ضلالت و جہالت بیان کریں اور انہیں ایمان کی دعوت دیں۔