سورة العلق - آیت 15

كَلَّا لَئِن لَّمْ يَنتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ہرگز نہیں اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٥۔ ١ یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت اور دشمنی سے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے، اس سے باز نہ آیا تو میں اس کی گردن پر پاؤں رکھ دونگا۔ (یعنی اسے روندوں گا اور یوں ذلیل کرونگا) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اسے پکڑ لیتے (صحیح بخاری)