سورة الليل - آیت 10

فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اس کو ہم سخت راستے کے لیے سہولت دیں گے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٠۔ ١ تنگی سے مراد کفر ومعصیت اور طریق شر ہے، یعنی ہم اس کے لیے نافرمانی کا راستہ آسان کردیں گے، جس سے اس کے لیے خیر وسعادت کے راستے مشکل ہوجائیں گے، قرآن مجید میں یہ مضمون کئی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ جو خیر و رشد کا راستہ اپناتا ہے اس کے صلے میں اللہ اسے خیر و توفیق سے نوازتا ہے اور جو شر و معصیت کو اختیار کرتا ہے اللہ اس کو اس کے حال پر چھوڑتا ہے یہ اس کی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے جو اللہ نے اپنے علم سے لکھ رکھی ہے۔ (ابن کثیر)