سورة الجن - آیت 1

قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اے نبی فرما دیں کہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ 3 کے ایک گروہ نے قرآن کو غور سے سنا اور پھر جا کر اپنے ساتھی سے کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١۔ ١ یہ واقعہ (وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَیْکَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْہُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوْا اِلٰی قَوْمِہِمْ مُّنْذِرِیْنَ 29؀) 46۔ الاحقاف :29) کے حاشیہ میں گزر چکا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وادی نخلہ صحابہ کرام کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ کچھ جنوں کا وہاں سے گزر ہوا تو انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قرآن سنا۔ جس سے وہ متاثر ہوئے۔ یہاں بتلایا جا رہا ہے کہ اس وقت جنوں کا قرآن سننا، آپ کے علم میں نہیں آیا، بلکہ وحی کے ذریعے سے ان کو اس سے آگاہ فرمایا گیا،