سورة المعارج - آیت 43

يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ سِرَاعًا كَأَنَّهُمْ إِلَىٰ نُصُبٍ يُوفِضُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اس دن یہ اپنی قبروں سے نکل کر تیزی سے اس طرح دوڑے جا رہے ہوں گے جیسے اپنے بتوں کی طرف دوڑ رہے ہوں، ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٤٣۔ ١ جدث کے معنی ہیں قبر۔ جہاں بتوں کے نام پر جانور ذبح کیے جاتے ہیں اور بتوں کے معنی میں بھی استعمال ہے۔ بتوں کے پجاری جب سورج طلوع ہوتا تھا تو نہایت تیزی سے اپنے بتوں کی طرف دوڑتے کہ کون پہلے اسے بوسہ دیتا ہے۔ اسی طرح قیامت والے دن اپنی قبروں سے برق رفتاری سے نکلیں گے۔