سورة النسآء - آیت 49

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا جو اپنی پاکیزگی کا اظہار کرتے ہیں یہ تو اللہ تعالیٰ ہے کہ جسے چاہے پاک کرتا ہے اور کسی پر دھاگے کے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٤٩۔ ١ یہود اپنے منہ میاں میٹھو بنتے تھے مثلًا ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں وغیرہ، اللہ نے فرمایا تزکیہ کا اختیار بھی اللہ کو ہے اور اس کا علم بھی اسی کو ہے،"فتیل" کھجور کی گٹھلی کے کٹاؤ پر جو دھاگے یا سوت کی طرح نکلتا یا دکھائی دیتا ہے اس کو کہا جاتا ہے۔ یعنی اتنا سا ظلم بھی نہیں کیا جائے گا۔