سورة الملك - آیت 15

هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ ۖ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو نرم کردیا ہے اس کے راستوں پر چلو پھرو اور اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ! اور اسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٥۔ ١ لطیف کے معنی ہے باریک بین یعنی جس کا علم اتنا ہے کہ دلوں میں پرورش پانے والی باتوں کو بھی جانتا ہے۔ ذلول کے معنی مطیع۔ یعنی زمین کو تمہارے لیے نرم اور آسان کردیا اس کو اسی طرح سخت نہیں بنایا کہ تمہارا اس پر آباد ہونا اور چلنا پھرنا مشکل ہو۔ یعنی زمین کی پیداوار سے کھاؤ پیو۔