سورة البقرة - آیت 45

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو۔ یہ بات عاجزی کرنے والوں کے سوا دوسروں کے لیے بہت مشکل ہے

تفسیر احسن البیان - حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ

1-صبر اور نماز ہر اللہ والے کے دو بڑے ہتھیار ہیں۔ نماز کے ذریعے سے ایک مومن کا رابطہ وتعلق اللہ تعالیٰ سے استوار ہوتا ہے، جس سے اسے اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت حاصل ہوتی ہے۔ صبر کے ذریعے سے کردار کی پختگی اور دین میں استقامت حاصل ہوتی ہے۔ حدیث میں آتا ہے [ِ اِذَا حَزَبَه أَمْرٌ فَزِعَ إِلَى الصَّلاةِ ] (احمد وابوداود بحوالہ فتح القدیر) ”نبی (ﷺ) کو جب بھی کوئی اہم معاملہ پیش آتا آپ فوراً نماز کا اہتمام فرماتے۔“ 2- نماز کی پابندی عام لوگوں کے لئے گراں ہے، لیکن خشوع وخضوع کرنے والوں کے لئے یہ آسان، بلکہ اطمینان اور راحت کا باعث ہے۔ یہ کون لوگ ہیں؟ وہ جو قیامت پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ گویا قیامت پر یقین اعمال خیر کو آسان کر دیتا اور آخرت سے بےفکری انسان کو بےعمل، بلکہ بدعمل بنا دیتی ہے۔