سورة التغابن - آیت 9

يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ۖ ذَٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ ۗ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

وہ سب کو جمع کرنے کے دن اکٹھا کرے گا اور وہ ہار جیت کا دن ہوگا جو اللہ پر ایمان لایا اور نیک عمل کرتا رہا اللہ اس کے گناہ مٹا دے گا اور اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ لوگ ہمیشہ ہمیش ان میں رہیں گے، یہی بڑی کامیابی ہے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٩۔ ١ قیامت کو یوم الجمع اس لیے کہا کہ اس دن اول وآخر سب ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے فرشتے کی آواز سب سنیں گے ہر ایک کی نگاہ آخر تک پہنچے گی کیونکہ درمیان میں کوئی چیز حائل نہ ہوگی۔ ٩۔ ٢ یعنی ایک گروہ جیت جائے گا اور ایک ہار جائے گا، اہل حق اہل باطن پر، ایمان والے اہل کفر پر اور اہل طاعت اہل معصیت پر جیت جائیں گے، سب سے بڑی جیت اہل ایمان کو یہ حاصل ہوگی کہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے اور سب سے بڑی ہار جہنمیوں کے حصے آئے گی جو جہنم میں داخل ہونگے۔