سورة التغابن - آیت 7

زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا ۚ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۚ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

انکار کرنے والوں نے بڑے دعوے سے کہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے ان سے فرمائیں کیوں نہیں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر ضرور تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے دنیا میں کیا کچھ کیا ہے اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٧۔ ١ یعنی یہ عقیدہ کے قیامت والے دن دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے یہ کافروں کا محض گمان ہے جس کی پشت پر دلیل کوئی نہیں۔ زعم کا اطلاق کذب پر بھی ہوتا ہے۔ ٧۔ ٢ قرآن مجید میں تین مقامات پر اللہ نے اپنے رسول کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی قسم کھا کر یہ اعلان کرے کہ اللہ تعالیٰ ضرور دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ ان میں سے ایک یہ مقام ہے اس سے قبل ایک مقام سورۃ یونس، اور دوسرا مقام سورۃ سبا ہے۔ ٧۔ ٣ یہ وقوع قیامت کی حکمت ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو کیوں دوبارہ زندہ کرے گا ؟ تاکہ وہاں پر ہر ایک کو اس کے عمل کی پوری جزا دی جائے۔ ٧۔ ٤ یہ دوبارہ زندگی، انسانوں کو کتنی ہی مشکل نظر آتی ہو، لیکن اللہ کے لئے بالکل آسان ہے۔