سورة المجادلة - آیت 19

اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ ۚ أُولَٰئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ ۚ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

’ شیطان ان پر مسلط ہوچکا ہے اور اس نے انہیں اللہ کی یاد بھلا دی ہے وہ شیطان کے ساتھی ہیں۔ خبردار شیطان کے ساتھی نقصان پانے والے ہیں

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٩۔ ١ استحوذ کے معنی ہیں گھیر لیا احاطہ کرلیا جمع کرلیا اسی کا ترجمہ غلبہ حاصل کرلیا کیا جاتا ہے کہ غلبے میں یہ سارے مفہوم آجاتے ہیں۔ ١٩۔ ٢ یعنی اس نے جن چیزوں کے کرنے کا حکم دیا ہے، ان سے شیطان نے ان کو غافل کردیا ہے اور جن چیزوں سے اس نے منع کیا ہے، ان کا وہ ارتکاب کرواتا ہے، انہیں خوبصورت دکھلا کر یا مغالطوں میں ڈال کر یا تمناؤں اور آرزاؤں میں مبتلا کر کے۔ ١٩۔ ٣ یعنی مکمل خسارا انہی کے حصے میں آئے گا۔ گویا دوسرے ان کی نسبت خسارے میں نہیں ہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے جنت کا سودا گمراہی لے کر کرلیا، اللہ پر جھوٹ بولا اور دنیا و آخرت میں جھوٹی قسمیں کھاتے رہے۔