سورة المجادلة - آیت 14

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِم مَّا هُم مِّنكُمْ وَلَا مِنْهُمْ وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے ان کو دوست بنایا ہے جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے؟ وہ نہ تمہارے ہیں نہ ان کے ہیں۔ وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٤۔ ١ جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا وہ قرآن کریم کی صراحت کے مطابق یہود ہیں اور ان سے دوستی کرنے والے منافقین یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب مدینے میں منافقین کا بھی زور تھا اور یہودیوں کی سازشیں بھی عروج پر تھیں ابھی یہود کو جلا وطن نہیں کیا گیا تھا۔ ١٤۔ ٢ یعنی یہ منافقین مسلمان ہیں اور نہ دین کے لحاظ سے یہودی ہیں۔ پھر یہ کیوں یہودیوں سے دوستی کرتے ہیں۔؟ صرف اس لیے کہ ان کے اور یہود کے درمیان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اسلام کی عداوت قدر مشترک ہے۔ ١٤۔ ٣ یعنی قسمیں کھا کر مسلمانوں کو باور کراتے ہیں کہ ہم تمہاری طرح مسلمان ہیں یا یہودیوں سے انکے رابطے نہیں ہیں۔