سورة المجادلة - آیت 10

إِنَّمَا النَّجْوَىٰ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيْسَ بِضَارِّهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

سرگوشی تو ایک شیطانی کام ہے اور وہ اس لیے کی جاتی ہے کہ ایمان لانے والے لوگ اس سے پریشان ہوں، حالانکہ اللہ کے حکم کے بغیر انہیں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور مومنوں کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٠۔ ١ یعنی اثم و عدوان اور معصیت رسول پر مبنی سرگوشیاں یہ شیطانی کام ہیں، کیونکہ شیطان ہی ان پر آمادہ کرتا ہے، تاکہ وہ اس کے ذریعے سے مومنوں کو غم میں مبتلا کرے۔ ١٠۔ ٢ لیکن یہ سرگوشیاں اور شیطانی حرکتیں مومنوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتیں الا یہ کہ اللہ کی مشیت ہو اس لیے تم اپنے دشمنوں کی ان اوچھی حرکتوں سے پریشان نہ ہوا کرو بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھو اس لیے کہ تمام معاملات کا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے نہ کہ یہود اور منافقین جو تمہیں تباہ وبرباد کرنا چاہتے ہیں سرگوشی کے سلسلے میں ہی مسلمانوں کو ایک اخلاقی ہدایت یہ دی گئی ہے کہ جب تم تین آدمی اکٹھے ہو تو اپنے میں سے ایک کو چھوڑ کر دو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ طریقہ اس ایک آدمی کو غم ڈال دے گا۔ صحیح بخاری۔ البتہ اس کی رضامندی اور اجازت سے ایسا کرنا جا‏ئز ہے کیونکہ اس صورت میں دو آدمیوں کا سرگوشی کرنا کسی کے لیے تشویش کا باعث نہیں ہوگا۔