سورة المجادلة - آیت 1

قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑا کر رہی تھی اور اللہ سے شکایت کر رہی تھی۔ اللہ تمہاری گفتگو سن رہاتھا وہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١۔ ١ یہ اشارہ ہے حضرت خولہ بنت مالک بن ثعلبہ (رض) کے واقعہ کی طرف جن کے خاوند حضرت اوس بن صامت (رض) نے ان سے ظہار کرلیا تھا ظہار کو طلاق سمجھا جاتا تھا حضرت خولہ (رض) سخت پریشان ہوئیں اس وقت تک اس کی بابت کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لیے وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی کچھ توقف فرمایا اور وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بحث وتکرار کرتی رہیں جس پر یہ آیات نازل ہوئیں جن میں مسئلہ ظہار اور اس کا حکم و کفارہ بیان فرمادیا گیا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح لوگوں کی باتیں سننے والا ہے کہ یہ عورت گھر کے ایک کونے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مجادلہ کرتی اور اپنے خاوند کی شکایت کرتی رہی مگر میں اس کی باتیں نہیں سنتی تھی لیکن اللہ نے آسمانوں پر سے اس کی بات سن لی، سنن ابن ماجہ المقدمہ۔ صحیح بخاری میں بھی تعلیقا اس کا مختصر ذکر ہے۔ کتاب التوحید۔