سورة القمر - آیت 3

وَكَذَّبُوا وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ ۚ وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

انہوں نے جھٹلادیا اور اپنی خواہشات نفس ہی کی پیروی کی ہر کام انجام تک پہنچ کر رہتا ہے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٣۔ ١ یہ کفار مکہ کی تکذیب اور اتباع کی تردید کے لئے فرمایا کہ ہر کام کی ایک انتہا ہوتی ہے، وہ کام اچھا ہو یا برا۔ یعنی بالآخر اس کا نتیجہ نکلے گا، اچھے کام کا نتیجہ اچھا اور برے کام کا نتیجہ برا۔ اس نتیجے کا ظہور دنیا میں بھی ہوسکتا ہے اگر اللہ کی مشیت مقتضی ہو، ورنہ آخرت میں تو یقینی ہے۔