سورة النجم - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

یہ پہلی سورت ہے جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار کے مجمع عام میں تلاوت کیا، تلاوت کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے جتنے لوگ تھے، سب نے سجدہ کیا، ماسوائے امیہ بن خلف کے، اس نے اپنی مٹھی میں مٹی لے کر اس پر سجدہ کیا۔ چنانچہ یہ کفر کی حالت میں ہی مارا گیا (صحیح بخاری، تفسیر سورۃ نجم) بعض طریق میں اس شخص کا نام عتبہ بن ربیعہ بتلایا گیا ہے (تفسیر ابن کثیر) واللہ اعلم۔ حضرت زید بن ثابت (رض) کہتے ہیں کہ میں نے اس سورت کی تلاوت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں سجدہ نہیں کیا (صحیح بخاری، باب مذکور) اس کا مطلب یہ ہوا کہ سجدہ کرنا مستحب ہے، فرض نہیں۔ اگر کبھی چھوڑ بھی دیا جائے تو جائز ہے۔