سورة ق - آیت 14

وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ ۚ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور ایکہ والوں اور تبع کی قوم کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں، سب نے رسولوں کو جھٹلایا اور آخر کار میری وعید ان پر نازل ہو گئی

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٤۔ ١ اَصْحَاب الاءَیْکَۃِ کے لئے دیکھئے سورۃ الشعراء (وَمَآ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَاِنْ نَّظُنُّکَ لَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ ١٨٦؀ۚ) 26۔ الشعراء :186) کا حاشیہ۔ ١٤۔ ٢ قَوْمُ تُبَعِ کے لئے دیکھئے سورۃ الدخان، (اَہُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّــعٍ ۙ وَّالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ۭ اَہْلَکْنٰہُمْ ۡ اِنَّہُمْ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَ 37؀) 44۔ الدخان :37) کا حاشیہ۔ ١٤۔ ٣ یعنی ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا۔ اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی ہے گویا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا جا رہا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی قوم کی طرف سے تکذیب پر غمگین نہ، اس لیے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے یہی معاملہ کیا دوسرے اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ پچھلی قوموں نے انبیاء علیہم السلام کی تکذیب کی تو دیکھ لو ان کا انجام کیا ہوا ؟ کیا تم بھی اپنے لیے یہی انجام چاہتے ہو اگر یہ انجام پسند نہیں کرتے تو تکذیب کا راستہ چھوڑو اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آؤ۔