سورة ق - آیت 2

بَلْ عَجِبُوا أَن جَاءَهُم مُّنذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكَافِرُونَ هَٰذَا شَيْءٌ عَجِيبٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

بلکہ ان لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا ہے کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک خبردار کرنے والا آیا ہے، کافر کہتے ہیں کہ یہ تو عجیب بات ہے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢۔ ١ حالانکہ اس میں کوئی تعجب والی بات نہیں ہے، ہر نبی اسی قوم کا ایک فرد ہوتا تھا جس میں اسے مبعوث کیا جاتا تھا۔ اسی حساب سے قریش مکہ کو ڈرانے کے لئے قریش ہی میں سے ایک شخص کو نبوت کے لئے چن لیا گیا۔