سورة آل عمران - آیت 173

الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

وہ ایسے لوگ ہیں جب ان کو لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے میں لشکر جمع کرلیے ہیں تم ان سے ڈر جاؤ تو اس خبر نے انہیں ایمان میں بڑھا دیا اور وہ پکار اٹھے کہ ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٧٣۔ ١ کہا جاتا ہے کہ ابو سفیان نے بعض لوگوں کو معاوضہ دے کر یہ افواہ پھیلائی کہ مشرکین مکہ لڑائی کے لئے بھرپور تیاری کر رہے ہیں تاکہ یہ سن کر مسلمانوں کے حوصلے پست ہوجائیں، لیکن مسلمان اس قسم کی افواہیں سن کر خوف زدہ ہونے کی بجائے مذید عزم اور ولولہ سے سرشار ہوگئے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان جامد قسم کی چیز نہیں بلکہ اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، جیسا کہ محدثین کا مسلک ہے۔ اسی لئے حدیث میں حسبُنا اللّٰہ و نَعْم الْوکِیْل پڑھنے کی فضیلت وارد ہے۔ نیز صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب آگ میں ڈالا گیا تو آپ کی زبان پر یہی الفاظ تھے (فتح القدیر)۔