سورة آل عمران - آیت 172

الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

جن لوگوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور رسول کے حکم کو قبول کیا ان میں سے جس نے نیکی کی اور پرہیزگاری اختیار کی ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٧٢۔ ١ جب مشرکین جنگ احد سے واپس ہوئے تو راستے میں انہیں خیال آیا کہ ہم نے تو ایک سنہری موقع ضائع کردیا۔ مسلمان شکست خوردنی کی وجہ سے خوف زدہ اور بے حوصلہ تھے ہمیں اس سے فائدہ اٹھا کر مدینہ پر بھرپور حملہ کردینا چاہیے تھا تاکہ اسلام کا یہ پودا اپنی سر زمین (مدینہ) سے ہی نیست و نابود ہوجاتا۔ ادھر مدینہ پہنچ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اندیشہ ہوا کہ شاید وہ پلٹ کر آئیں لہذا آپ نے صحابہ کرام کو لڑنے کے لئے آمادہ کیا اور صحابہ کرام تیار ہوگئے۔ مسلمانوں کا یہ قافلہ جب مدینہ سے ٨ میل واقع 'حمراء الاسد ' پر پہنچا تو مشرکین کو خوف محسوس ہوا چنانچہ ان کا ارادہ بدل گیا اور وہ مدینہ پر حملہ آور ہونے کی بجائے مکہ واپس چلے گئے، اس کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے رفقاء بھی مدینہ واپس آگئے۔ آیت میں مسلمانوں کے اسی جذبہ اطاعت اللہ و رسول کی تعریف کی گئی ہے۔ بعض نے اس کا سبب نزول حضرت ابو سفیان کی اس دھمکی کو بتلایا ہے کہ آئندہ سال بدر صغریٰ میں ہمارا تمہارا مقابلہ ہوگا۔ (ابوسفیان ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) جس پر مسلمانوں نے بھی اللہ و رسول کی اطاعت کے جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے جہاد میں بھرپور حصہ لینے کا عزم کرلیا۔ (ملخص از فتح القدیر و ابن کثیر مگر یہ آخری قول سیاق سے میل نہیں کھاتا)